ایرانتازہ ترینمشرق وسطی

اسرائیل کے لیے ایران کا فوری اور بڑا خطرہ: بیلسٹک میزائل پروگرام پر تشویش میں اضافہ

اسرائیلی سیکیورٹی حلقوں نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو اسرائیل کے لیے سب سے بڑا اور فوری خطرہ قرار دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 2 ہزار بیلسٹک میزائل موجود ہیں، جو براہِ راست اسرائیل کی سلامتی کے لیے وجودی خطرہ سمجھے جا رہے ہیں۔ اگر یہ تعداد بڑھ کر 6 ہزار سے 10 ہزار تک پہنچ جاتی ہے تو اسرائیل کا میزائل دفاعی نظام شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے اور بعض منظرناموں میں ناکام بھی ہو سکتا ہے۔

جون 2025 میں ہونے والی جنگ کے بعد، اسرائیلی اندازوں کے مطابق ایران نے اپنے میزائل پروگرام کو تیزی سے بحال کر لیا ہے، جبکہ جوہری پروگرام بدستور منجمد حالت میں ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کو اس مرحلے پر چین کی تکنیکی مدد حاصل ہے، جس کے نتیجے میں اس کی ماہانہ پیداوار تقریباً 300 میزائل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی رفتار آنے والے برسوں میں خطرے کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔

خطرے میں اضافے کی وجوہات کے طور پر اسرائیلی ادارے ایران کی نئی حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان میں میزائل حملوں کا رخ براہِ راست شہری علاقوں کی طرف موڑنا، طویل فاصلے سے فائرنگ، تیز رفتار لانچنگ، زیرِ زمین لانچ سائٹس کا استعمال اور کلسٹر بمبلیٹس جیسے ہتھیار شامل ہیں۔ اسرائیلی اندازوں کے مطابق ماضی میں صرف 36 میزائلوں کے استعمال سے 28 افراد کی ہلاکت اور 13 ہزار گھروں کی تباہی ہوئی، جو اس خطرے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے امریکا کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل کے نزدیک بیلسٹک میزائل خطرہ، جوہری خطرے سے بھی زیادہ فوری اور سنگین ہے۔ ان کے مطابق میزائل پروگرام اسرائیل کے لیے ایک واضح ریڈ لائن ہے، جس پر کسی قسم کی رعایت ناقابلِ قبول ہو گی۔

اسی تناظر میں اسرائیل نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر بھی دباؤ ڈالا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں میزائل پروگرام کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر صرف جوہری سرگرمیوں پر توجہ دی گئی اور میزائل صلاحیت کو نظرانداز کیا گیا تو خطے میں طاقت کا توازن مزید بگڑ سکتا ہے۔

مجموعی طور پر دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں سب سے حساس سیکیورٹی مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو آنے والے برسوں میں یہ خطرہ نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button