
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج میں بڑے پیمانے پر امریکی فوجی تیاریوں کے درمیان، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آفیشل ویب سائٹ (Khamenei.ir) نے ایک تفصیلی اور چشم کشا رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں ممکنہ امریکی یا اسرائیلی جارحیت کی صورت میں تہران کی انتہائی خطرناک اور وسیع تر جنگی حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، جس نے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے معیار کے مطابق تیار کی گئی اس رپورٹ کے اہم اور تہلکہ خیز نکات درج ذیل ہیں:
دشمن کی نفسیاتی جنگ اور ’12 روزہ جنگ’ کا سراب رپورٹ کے مطابق، اس وقت دشمن (امریکہ اور اسرائیل) نے خطے میں فوجی ساز و سامان کے انبار لگانے، دھمکیاں دینے اور سیاسی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایک شدید نفسیاتی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس کا واحد مقصد ایران کو خوفزدہ کر کے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔
رپورٹ میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ امریکی صدر نے حالیہ ’12 روزہ جنگ’ میں بھی اسی "غیر مشروط حوالگی” کا خواب دیکھا تھا، لیکن ایرانی مسلح افواج، مزاحمتی بلاک اور عوام کے قومی اتحاد نے اس خواب کو چکنا چور کر دیا، جس کے نتیجے میں دشمن کو جنگ بندی اور پسپائی اختیار کرنی پڑی۔
‘سرخ لکیریں بدل چکی ہیں’: امریکی مفادات کے لیے سخت ترین انتباہ ایران نے ایک بار پھر دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ کسی جنگ کا خواہاں نہیں ہے، لیکن جارحیت کی صورت میں وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔ رپورٹ میں سب سے سخت اور براہِ راست انتباہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے:

- "اس بار صورتحال ماضی سے یکسر مختلف ہوگی۔ جارحیت کرنے والوں، ان کے اتحادیوں اور انہیں فوجی اڈے فراہم کرنے والے میزبان ممالک کو ایک تباہ کن علاقائی جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
- جنگ کی صورت میں اب ماضی کی تمام ‘ریڈ لائنز’ (سرخ لکیریں) ڈرامائی طور پر بدل جائیں گی اور اہداف کا دائرہ کار بہت وسیع ہو جائے گا۔
- اگر ایرانی سرزمین یا اس کے شہریوں پر امریکی جارحیت کی گئی، تو پھر دنیا کے کسی بھی کونے میں امریکی مفادات اور ان کی جانیں محفوظ نہیں رہیں گی۔
متعدد محاذوں پر جنگ اور ٹرمپ کی مہلک غلط فہمی رپورٹ میں ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک انکشاف کیا گیا ہے کہ ’12 روزہ جنگ’ میں ایران نے تنہا ہی امریکہ اور صیہونی ریاست کا مقابلہ کیا تھا، اور خطے میں موجود اس کے اتحادیوں (مزاحمتی بلاک) نے اس محاذ میں باقاعدہ انٹری نہیں دی تھی۔ تاہم، متنبہ کیا گیا ہے کہ مستقبل کی کسی بھی جنگ میں یہ مساوات بدل جائے گی اور دشمن کو ایک ہی وقت میں کئی محاذوں سے زبردست حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے رپورٹ واضح کرتی ہے کہ وہ پہلے ہی لاتعداد مقامی چیلنجز میں گھرے ہوئے ہیں، اور ایران سے جنگ ان کے اقتدار کے لیے ایک ذلت آمیز شکست ثابت ہوگی۔ اگر امریکی میڈیا کی ان خبروں میں کوئی سچائی ہے کہ واشنگٹن ایک ‘محدود حملے’ کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پر جھکانا چاہتا ہے، تو یہ ٹرمپ کی ایک بہت بڑی اور مہلک اسٹریٹجک غلط فہمی ہے جس کی انہیں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
اسرائیل کا انجام اور ‘لشکرِ ذوالفقار’ کا مورال اس جنگی حکمت عملی میں تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ جوابی کارروائی میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرے گا۔ تاہم، اس بار صیہونی ریاست کو ایران کی جانب سے ایک ایسا زوردار اور تلخ طمانچہ کھانا پڑے گا جس کی شدت ماضی کے تمام حملوں سے زیادہ ہوگی۔
رپورٹ کے اختتام پر ماہِ رمضان کی مناسبت سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ایک مشہور قول کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں جنگ کے دوران ثابت قدم رہنے، دشمن کی آخری صفوں تک نظر رکھنے اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسی نظریے نے ایرانی ‘لشکرِ ذوالفقار’ کے فوجیوں کے حوصلوں کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے، جسے سمجھنا دشمن کے بس کی بات نہیں۔



