ایرانتازہ ترین

ایران کے نئے سپریم لیڈر کا پہلا پیغام، حملوں کا بدلہ لینے کا اعلان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کے نئے سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے عوامی پیغام میں حالیہ حملوں کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایران خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتا رہے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ پیغام ایک آڈیو بیان کی صورت میں جاری کیا گیا جو ان کے سرکاری ٹیلیگرام چینل کے ذریعے نشر کیا گیا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی شدید ہو چکی ہے اور خطے میں جنگی صورتحال برقرار ہے۔

اپنے پیغام میں نئے ایرانی رہنما نے کہا کہ حالیہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے “ہر قطرہ خون کا بدلہ لیا جائے گا” اور ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات میں اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف حملے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے کیے گئے، اس لیے ایرانی افواج ان اڈوں کو نشانہ بناتی رہیں گی۔ انہوں نے خطے کے ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بند کریں تاکہ جنگ مزید نہ پھیلے۔

آبنائے ہرمز کا ذکر

اپنے پیغام میں انہوں نے خلیج کے اہم تجارتی راستے Strait of Hormuz کی اہمیت کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ جاری رہی تو ایران اس آبی گزرگاہ پر دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم اگر بیرونی فوجی اڈوں سے خطرہ پیدا ہوا تو تہران سخت جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

والد کی ہلاکت کا حوالہ

اپنے خطاب میں انہوں نے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر Ali Khamenei کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایران ان حملوں میں مارے جانے والے تمام افراد کے لیے انصاف کا مطالبہ کرے گا۔

ان کے مطابق اگر ایران کے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا تو تہران اپنے مفادات کے دفاع کے لیے دشمنوں کے اثاثوں کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات بھی کر سکتا ہے۔

خطے میں کشیدگی برقرار

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے ایرانی رہنما کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ تیزی سے پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکی اڈوں اور خلیج کے حساس علاقوں میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈی اور خطے کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button