تازہ ترینرشیا یوکرین

روس کا یوکرین پر بڑا میزائل اور ڈرون حملہ، ایک ہلاک، 25 زخمی

کیف:(تازہ حالات رپورٹ ) یوکرین پر روس کے تازہ بڑے میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق گزشتہ شب کیے گئے حملے میں توانائی کے نظام اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے کئی علاقوں میں بجلی، پانی اور حرارتی نظام متاثر ہوا۔

یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ روس نے حملے کے دوران اسکندر-ایم بیلسٹک میزائل، اسکندر-کے اور دیگر کروز میزائلوں کے علاوہ تقریباً 400 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون داغے۔ حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر کروز میزائل اور سینکڑوں ڈرون مار گرائے، تاہم چند بیلسٹک میزائل اور ڈرون مختلف مقامات پر جا گرے۔

صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ حملے میں 12 صوبوں کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد شہری زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے الزام لگایا کہ جنیوا میں متوقع مذاکرات سے قبل اس نوعیت کا حملہ روس کی نیت پر سوال اٹھاتا ہے، کیونکہ بنیادی ہدف توانائی اور شہری ڈھانچہ تھا۔

اوڈیسا اور سرحدی علاقوں کی صورتحال

جنوبی شہر اوڈیسا میں رہائشی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں شہری زخمی ہوئے اور کچھ علاقوں میں حرارتی نظام اور پانی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ مشرقی اور جنوبی محاذی علاقوں، بشمول سومی، خیرسون، خارکیف اور زاپوریژیا میں بھی ڈرون اور توپ خانے کے حملوں کی اطلاعات ہیں۔

سومی کے علاقے میں ایک 68 سالہ خاتون ہلاک جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے۔ خیرسون میں دریا کے پار سے کیے گئے ڈرون حملوں میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ خارکیف کے قریب اگلے مورچوں پر بھی جھڑپیں جاری رہیں۔

سفارتی پس منظر

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرین، روس اور امریکا کے درمیان سفارتی کوششیں جاری ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ مبصرین کے مطابق میدانِ جنگ میں دباؤ بڑھانا اکثر مذاکراتی پوزیشن مضبوط کرنے کی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

روس کے 12 لاکھ سے زائد فوجی ہلاک یا زخمی

یوکرینی فوج کے مطابق صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روسی افواج کو مزید 890 جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اعداد و شمار آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں، تاہم کیف کا کہنا ہے کہ محاذ پر جھڑپیں بدستور جاری ہیں اور روسی پیش قدمی کو روکنے کے لیے سخت مزاحمت کی جا رہی ہے۔

بھاری ہتھیاروں کا بھی نقصان

جنرل اسٹاف کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک روس کے ہزاروں فوجی سازوسامان تباہ یا ناکارہ بنائے جا چکے ہیں، جن میں:

  • 11 ہزار 678 ٹینک
  • 24 ہزار سے زائد بکتر بند گاڑیاں
  • 37 ہزار سے زیادہ توپ خانے کے نظام
  • 1,600 سے زائد ملٹی پل راکٹ لانچر سسٹمز
  • 1,300 سے زیادہ فضائی دفاعی نظام
  • 435 طیارے اور 347 ہیلی کاپٹر
  • 1 لاکھ 36 ہزار سے زائد آپریشنل ڈرون
  • 29 جنگی بحری جہاز اور دو آبدوزیں شامل ہیں

یوکرین کا کہنا ہے کہ ان نقصانات نے روس کی جنگی صلاحیت کو متاثر کیا ہے، اگرچہ ماسکو نے اپنے جانی نقصانات کے مکمل اعداد و شمار شائع نہیں کیے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button