
امریکا کے سامنے سرنڈر نہیں کرنا- خامنائی کا جنگ کا حکم
(تازہ حالات رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی فوجی نقل و حرکت، خطے میں امریکی بحری طاقت کی موجودگی اور ایران کے اندرونی سیاسی بندوبست کے درمیان تہران بیک وقت سفارت کاری اور دفاعی تیاریوں کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایک طرف ایرانی حکام آئندہ ماہ ممکنہ عبوری جوہری معاہدے کا عندیہ دے رہے ہیں، تو دوسری جانب اعلیٰ قیادت جنگی خدشات کے پیش نظر اختیارات کی ازسرِ نو ترتیب کر رہی ہے۔
مارچ میں عبوری معاہدہ ممکن؟
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ مارچ کے اوائل میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور متوقع ہے، جو ایک عبوری معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پابندیوں کے خاتمے کے طریقۂ کار اور دائرہ کار پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
ایرانی مؤقف کے مطابق تہران مرحلہ وار یا مکمل پابندیوں کے خاتمے کی ضمانت چاہتا ہے، جبکہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام پر سخت اور قابلِ تصدیق پابندیاں دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی نکات مذاکرات کی سب سے بڑی رکاوٹ تصور کیے جا رہے ہیں۔
ادھر امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے حالیہ بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے رویے پر “متجسس” ہیں اور سمجھنا چاہتے ہیں کہ بڑھتے ہوئے امریکی دباؤ کے باوجود تہران نے ابھی تک واضح رعایت کیوں نہیں دی۔
میدان میں فوجی پیغام بھی جاری

سفارتی اشاروں کے ساتھ ایران کی عسکری سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں فوجی مشق کے دوران جدید بحری دفاعی میزائل “صیاد 3-جی” کے تجربے کا اعلان کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکی طیارہ بردار جہاز اور دیگر بحری اثاثے تعینات ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران مذاکرات کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی صلاحیت کا عملی مظاہرہ بھی کر رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ فوجی دباؤ کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔

جنگی خدشات اور داخلی بندوبست
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حالیہ مہینوں میں اہم حکومتی و سکیورٹی امور کی نگرانی اپنے قریبی ساتھی علی لاریجانی کے سپرد کر دی ہے۔
67 سالہ علی لاریجانی، جو سابق انقلابی گارڈ کمانڈر اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں، اب حکومتی فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کا کردار نسبتاً محدود ہو گیا ہے جبکہ حساس معاملات براہِ راست لاریجانی کی مشاورت سے طے پا رہے ہیں۔
ہائی الرٹ اور متبادل منصوبے
رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی مسلح افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے، عراق کی سرحد اور خلیج فارس کے قریب بیلسٹک میزائل لانچرز تعینات کیے ہیں، جبکہ فضائی حدود عارضی طور پر بند کر کے فوجی مشقیں بھی کی گئی ہیں۔
ساتھ ہی ممکنہ ہنگامی حالات کے پیش نظر جانشینی اور اقتدار کے تسلسل کے خفیہ منصوبے بھی تیار کیے گئے ہیں تاکہ کسی غیر متوقع صورتِ حال میں حکومتی ڈھانچہ متاثر نہ ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ایرانی قیادت سفارتی حل کی کوشش کے باوجود بدترین ممکنہ منظرنامے کے لیے بھی تیاری کر رہی ہے۔
فیصلہ کن موڑ؟
فی الحال ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے، مگر میدان میں فوجی تیاریوں اور اندرونی سیاسی بندوبست سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
مارچ میں متوقع مذاکرات یہ طے کر سکتے ہیں کہ خطہ عبوری معاہدے کی طرف بڑھتا ہے یا کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ رپورٹ میں ایرانی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ خامنہ ای نے قیادت کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی حملے یا اعلیٰ حکام کے قتل کی صورت میں نظام کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے اپنی ممکنہ ہلاکت کی صورت میں جانشینوں کی فہرست بھی تیار کرنا شروع کر دی ہے، تاکہ قیادت کا خلا پیدا نہ ہو۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
اس دعوے نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں ماہرین اسے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کے لیے اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ اگر ایران واقعی اتنی کم مدت میں صنعتی معیار کی صلاحیت حاصل کرنے کے قریب ہے تو آنے والے دن سفارتی کوششوں اور عالمی دباؤ کے حوالے سے نہایت فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایران سے مذاکرات کرنے والے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات سے متاثر دکھائی دیتے ہیں کہ ایران نے امریکی دباؤ کے سامنے “ہتھیار نہیں ڈالے” اور نہ ہی پسپائی اختیار کی۔
وٹکوف کے بیان نے ایران۔امریکہ مذاکرات کے تناظر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی اور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔



