
تہران / انقرہ / ریاض / قاہرہ / واشنگٹن — ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے قبل سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جب کہ خطے میں عسکری نقل و حرکت بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فونک گفتگو کی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ان رابطوں میں خطے کی تازہ صورتحال، ایران۔امریکہ بات چیت اور ممکنہ اثرات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ادھر امریکہ کے خصوصی مندوب اسٹیو وِٹکوف ایک ہنگامی دورے پر اسرائیل پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ اسرائیلی قیادت کو ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی عمل پر اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایران کے صدر نے بھی اہم پیش رفت کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ قومی مفادات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے مقصد کے تحت کیا گیا ہے۔
اسی دوران روس نے ایران۔امریکہ ممکنہ معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ روسی مندوب کا کہنا ہے کہ ماسکو اس معاہدے میں ضامن کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور ایران کے یورینیم ذخائر کو نگرانی کے تحت اپنے پاس رکھ سکتا ہے، اگر فریقین اس پر متفق ہوں۔

دوسری جانب عسکری محاذ پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی نگرانی ڈرونز امریکی بحری بیڑے، خصوصاً طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، جسے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسیوں کے مطابق امکان ہے کہ ترکی میں اسٹیو وٹکوف اور عباس عراقچی کے درمیان ملاقات کے بعد ایران اور امریکہ کے مذاکرات دوبارہ شروع ہو جائیں گے، جسے سفارتی عمل میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا، سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی آپشنز کے تحت بحرِ ہند میں واقع ڈیاگو گارسیا کے جزیرے پر جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام دفاعی تیاریوں کا حصہ ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایک طرف سفارت کاری کے دروازے کھل رہے ہیں تو دوسری جانب عسکری دباؤ بھی برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ ایران اور امریکہ مذاکرات کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچتے ہیں یا خطہ مزید غیر یقینی صورتحال کی طرف بڑھتا ہے۔



