
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
ایران میں جاری کشیدگی کے دوران ایک روسی فوجی ماہر کے بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ روس کے ریٹائرڈ میجر جنرل ولادیمیر پوپوف نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی فوجی اور دفاعی ماہرین ممکنہ طور پر ایران میں موجود ہیں اور وہاں جدید ہتھیاروں کی آزمائش کر رہے ہیں۔
روسی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پوپوف کا کہنا تھا کہ چین اس جنگی صورتحال کو اپنے جدید فوجی نظام اور ہتھیاروں کی کارکردگی جانچنے کے موقع کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران ممکنہ طور پر چینی ساختہ میزائلوں، بموں اور جدید نگرانی کے نظام کے تجربات کے لیے ایک عملی میدان بن سکتا ہے۔
پوپوف نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ابھی تک اپنے سب سے طاقتور ہتھیار مکمل طور پر استعمال نہیں کیے اور وہ ممکنہ طور پر انہیں جنگ کے اگلے مرحلے کے لیے محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو ایران نئی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے ساتھ دوسری بڑی جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔
روسی جنرل کے مطابق چین کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہو سکتی ہے کہ حقیقی جنگی حالات میں نئی فوجی ٹیکنالوجی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح یوکرین جنگ کو بعض حلقے روسی ہتھیاروں کے تجرباتی میدان کے طور پر دیکھتے ہیں، اسی طرح ایران کی موجودہ صورتحال چین کے لیے بھی ایک عملی تجربہ گاہ بن سکتی ہے۔

روسی فوجی ماہر ولادیمیر پوپوف کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیل کے حملے مؤثر رہے اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو بڑا نقصان پہنچا، جس کے باعث ایرانی دفاعی نظام کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ چند دنوں کے بعد حملوں کی شدت میں عارضی کمی آ سکتی ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل مسلسل اسی شدت سے کارروائیاں جاری نہیں رکھ سکتے اور انہیں ہتھیاروں اور فوجی سامان کی دوبارہ فراہمی کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔
پوپوف کے مطابق امریکی فوج کو اپنے میزائل اور دیگر اسلحہ دوبارہ سپلائی کرنا پڑتا ہے اور دفاعی نظام کے لانچنگ مقامات کو بھی وقتاً فوقتاً تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر کچھ عرصے کی خاموشی کے بعد جنگ دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے اور یہ سلسلہ کئی مرتبہ دہرایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران جیسے بڑے ملک کے ساتھ طویل فوجی تصادم ایک پیچیدہ عمل ہے، کیونکہ امریکہ خطے میں براہِ راست اپنے سرزمین سے نہیں بلکہ دور دراز اڈوں اور لاجسٹک نظام کے ذریعے کارروائیاں کر رہا ہے، جس سے جنگی سپلائی برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
تاہم آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی چین یا ایران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے آیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتیں اکثر اپنے اتحادیوں کے ساتھ فوجی تعاون اور ٹیکنالوجی کی شراکت داری کرتی ہیں، لیکن براہ راست جنگی آزمائش کے دعوؤں کی تصدیق کرنا مشکل ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واقعی چین اس تنازع میں تکنیکی سطح پر شامل ہوتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے اور عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کو بھی تیز کر سکتا ہے۔



