ایرانتازہ ترین

ایران پر قیامت خیز 24 گھنٹے: 1200 اسرائیلی میزائلوں کی برسات، آرمی چیف جنرل عبدالرحیم موسوی شہید

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے حملوں میں شدت پیدا کی تو امریکہ ایسا جواب دے گا “جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہوگا”۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل دوسرے روز بھی میزائل حملوں کی صورت میں جاری ہے۔

اتوار کی صبح صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری پیغام میں کہا کہ ایران نے سخت حملوں کا عندیہ دیا ہے، تاہم اگر ایسا ہوا تو امریکہ بھرپور طاقت استعمال کرے گا۔ ان کا بیان خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور عالمی سطح پر تشویش کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد خطے میں حالات کے نتائج واشنگٹن اور یروشلم دونوں کو بھگتنا ہوں گے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے “سرخ لکیریں عبور” کی ہیں اور اس کا جواب دیا جائے گا۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ جلد ہی امریکی اڈوں اور اسرائیلی اہداف کے خلاف “شدید ترین کارروائی” کی جائے گی۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ایران اپنی قیادت کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ادھر اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران میں درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک ہزار سے زائد گولہ بارود استعمال کیا گیا۔ تہران میں ہونے والے ایک بڑے دھماکے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ فوجی تنصیبات کے قریب ہوا۔

خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور خلیجی اتحادی ممالک کی سیکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی اور اتحادی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

قیامت خیز 24 گھنٹے: تہران کے دفاعی حصار پر کاری ضرب

بین الاقوامی دفاعی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے ‘آپریشن لائنز رور’ کے تحت ایران کے فوجی اڈوں، مواصلاتی مراکز اور میزائل لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنایا ہے۔ حملوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ایک دن میں 1200 میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جس نے تہران اور اصفہان سمیت کئی اہم شہروں کے دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کو مفلوج کرنا تھا۔

جنرل عبدالرحیم موسوی کی شہادت: ایران کے لیے بڑا صدمہ

ایرانی سرکاری میڈیا اور عسکری ذرائع سے موصول ہونے والی تشویشناک اطلاعات کے مطابق، ان حملوں میں ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل عبدالرحیم موسوی بھی شہید ہو گئے ہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد، فوج کے سربراہ کا نشانہ بننا ایرانی دفاعی ڈھانچے کے لیے ایک ایسا خلا ہے جسے پُر کرنا تہران کے لیے بڑا چیلنج ہوگا۔ جنرل موسوی ایران کے تجربہ کار ترین عسکری کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے اور حالیہ جنگی حکمت عملی میں ان کا کردار کلیدی تھا۔

جنگی جنون یا عالمی تباہی کا پیش خیمہ؟

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اس جارحانہ اقدام نے پورے خطے کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف جہاں ایران کے اندر قیادت کا بحران پیدا ہو رہا ہے، وہیں دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے بچی کھچی قیادت کی جانب سے "فیصلہ کن بدلے” کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ایران نے مزاحمت کی تو امریکی حملوں کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا جائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button