
(تازہ حالات رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور امریکا–ایران ممکنہ تصادم کی قیاس آرائیوں کے درمیان اسرائیل میں ایک نجومی کی پیش گوئی نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسرائیلی نجومی پنی نا کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ اپریل کے اوائل تک اسرائیل کو “انتہائی غیر مستحکم اور ہنگامہ خیز دنوں” کا سامنا ہو سکتا ہے۔
نجومی کی وارننگ
کاٹز کے مطابق فلکیاتی زاویوں کی ایک خاص ترتیب فروری کے آخر سے مارچ کے آغاز تک زیادہ “ڈرامائی اور خطرناک” حالات کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 26 فروری سے یکم مارچ کے درمیان دن خاص طور پر حساس ہو سکتے ہیں، جن میں سیاسی بے چینی، احتجاج، سیکیورٹی خدشات اور حتیٰ کہ غیر معمولی موسمی یا قدرتی واقعات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکومت کو آئندہ دو ماہ تک اندرونی دباؤ، سیاسی عدم استحکام اور سرحدی خطرات کا سامنا رہ سکتا ہے۔ تاہم واضح رہے کہ یہ تمام باتیں نجومی تجزیے پر مبنی ہیں اور ان کی کوئی سائنسی توثیق موجود نہیں۔
عسکری تجزیہ کاروں کی تشویش
دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کے ماہر پروفیسر رابرٹ پائپ کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتی کی موجودہ سطح غیر معمولی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں موجود امریکی فضائی طاقت دنیا میں دستیاب مجموعی امریکی فضائی طاقت کا تقریباً 40 سے 50 فیصد بنتی ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اس نوعیت کی فوجی تعیناتی ماضی میں 1991 اور 2003 کی عراق جنگوں سے پہلے دیکھی گئی تھی۔ ان کے بقول “امریکا نے اس پیمانے پر افواج کبھی تعینات نہیں کیں کہ بعد میں کارروائی نہ کی ہو۔”
خطے میں امریکی موجودگی
رپورٹس کے مطابق بحیرۂ عرب اور بحیرۂ روم میں دو امریکی طیارہ بردار جہاز، ابراہم لنکن اور جیرالڈ آر فورڈ، اپنے جنگی بیڑوں کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کے علاوہ پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے جدید فضائی دفاعی نظام بھی خلیجی ممالک میں تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ ایف-35، ایف-15 اور ایف-16 لڑاکا طیارے مختلف اڈوں پر موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن عسکری تیاریوں کی رفتار نے خطے میں بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
Armchair Admiral
15 جنوری سے اب تک کم از کم 249 عدد C-17 اور C-5 طیاروں کی پروازیں امریکہ، یورپ اور جاپان میں موجود امریکی فضائیہ کے اڈوں اور آرمی ایئر فیلڈز سے سینٹکام (CENTCOM) کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب کی جا چکی ہیں۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران 58 عدد KC-46 اور KC-135 اسٹریٹو ٹینکر طیارے یورپ میں تعینات کیے گئے ہیں، جو امریکی فضائیہ کے مجموعی ٹینکر بیڑے کا تقریباً 15 فیصد بنتے ہیں۔
سب سے زیادہ پروازیں اردن کے موافق السلتی ایئر بیس پر اتریں، جہاں تقریباً 147 طیارے پہنچے۔
19 فروری کے بعد مزید 21 پروازیں یا تو سینٹکام پہنچ چکی ہیں یا راستے میں ہیں۔ اس کے علاوہ اس وقت 10 آرمی سے متعلق، 6 فضائیہ سے متعلق، اور 5 بحریہ سے متعلق پروازیں جاری ہیں۔
سفارت کاری یا تصادم؟
فی الحال امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، مگر میدان میں جاری فوجی سرگرمیاں اور سیاسی بیانات صورتحال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیل میں نجومی پیش گوئیوں سے قطع نظر، اصل توجہ خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور عالمی طاقتوں کے فیصلوں پر مرکوز ہے۔



