امریکاتازہ ترین

کیا دنیا تیسری عالمی جنگ کے قریب پہنچ چکی ہے؟ ماہرین کی تشویشناک وارننگ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان بعض ماہرین اور تجزیہ کار اس سوال پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا دنیا ایک بڑے عالمی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں فوجی مؤرخ گائے والٹرز نے موجودہ حالات کا موازنہ پہلی عالمی جنگ سے پہلے کے ماحول سے کیا ہے۔

مؤرخ کے مطابق صرف ایک ہفتے کے اندر دنیا کی توجہ اندرونی سیاسی معاملات سے ہٹ کر مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال پر مرکوز ہو گئی۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے نے نہ صرف خطے کی سلامتی کو متاثر کیا بلکہ توانائی کی عالمی منڈیوں میں بھی بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ خلیجی خطے میں تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے اور بحری راستوں میں خلل کے باعث عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

دوسری جانب کئی ممالک نے خطے سے اپنے شہریوں کے انخلا کا عمل تیز کر دیا ہے جبکہ بعض مغربی ممالک میں سکیورٹی خدشات کے باعث الرٹ بڑھا دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ڈرون حملوں، میزائل حملوں اور سائبر جنگ جیسے نئے عناصر بھی تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

مؤرخ گائے والٹرز کے مطابق اصل خطرہ صرف ایک جنگ نہیں بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں بیک وقت ابھرتے ہوئے بحران ہیں۔ ان میں روس اور یوکرین کی جنگ، چین اور تائیوان کے درمیان کشیدگی، ایران اور اسرائیل کا تنازع اور بھارت و پاکستان کے درمیان جوہری مقابلہ جیسے عوامل شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے متعدد عالمی تنازعات کا بیک وقت موجود ہونا ماضی میں پہلی عالمی جنگ سے پہلے کے حالات کی یاد دلاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید ہتھیاروں کی تیز رفتار ترقی نے بھی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ سستے ڈرونز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور ہائپرسونک ہتھیار جنگ کے میدان کو پہلے سے زیادہ خطرناک اور غیر متوقع بنا رہے ہیں، جہاں حملہ کرنا نسبتاً آسان جبکہ دفاع کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مضمون کے مطابق موجودہ عالمی ماحول میں سیاسی بیانات اور سخت موقف بھی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ بعض رہنماؤں کے بیانات میں مفاہمت کے بجائے طاقت کے استعمال پر زور نظر آتا ہے، جس سے سفارتی حل کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔

تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اگرچہ عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تیسری عالمی جنگ یقینی طور پر شروع ہو چکی ہے۔ البتہ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا ایک نہایت حساس مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں کسی بھی اچانک واقعے سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینوں میں عالمی طاقتوں کے فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ موجودہ کشیدگی سفارتی حل کی طرف جاتی ہے یا عالمی سیاست ایک نئے اور خطرناک دور میں داخل ہو جاتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button