امریکاتازہ ترین

کیا ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں بری طرح پھنسنے والے ہیں؟ خوفناک امریکی پلان بے نقاب

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے معاملے میں ایک انتہائی پیچیدہ اور دو دھاری صورتحال کا سامنا ہے۔ ایک جانب عمان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں ‘نمایاں پیش رفت’ کے دعوے سامنے آ رہے ہیں، تو دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کا بے مثال اور تاریخی اجتماع 2003 کی عراق جنگ جیسی خطرناک صورتحال کی یاد دلا رہا ہے۔

معروف امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ (CNN) کی تازہ ترین تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی موجودہ حکمت عملی میں وہی اسٹریٹجک اور بیانیہ غلطیاں نظر آ رہی ہیں جنہوں نے سابق صدر جارج ڈبلیو بش کو مشرق وسطیٰ کی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھکیل دیا تھا۔

جنیوا مذاکرات اور ویانا میں اگلا مرحلہ سفارتی محاذ پر کچھ مثبت اشارے بھی ملے ہیں۔ جمعرات کو جنیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دور مکمل ہوا۔ ان مذاکرات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے شرکت کی۔ عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے ان بات چیت کو ‘انتہائی مثبت’ قرار دیا ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی معاہدہ (Breakthrough) طے نہیں پا سکا۔ اس سلسلے میں مزید تکنیکی سطح کے مذاکرات اگلے ہفتے ویانا میں شیڈول ہیں۔

عراق طرز کا عسکری دباؤ اور میزائلوں کا خوف سفارتی کوششوں کے متوازی، امریکا نے خطے میں 2003 کی عراق مہم کے بعد اپنا سب سے بڑا بحری اور فضائی بیڑا تعینات کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا واضح اور دو ٹوک موقف ہے کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔

انہوں نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو براہ راست خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا: "ایران نے ایسے میزائل تیار کر لیے ہیں جو یورپ اور ہمارے بیرون ملک اڈوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اور وہ تیزی سے ایسے میزائلوں پر کام کر رہے ہیں جو جلد ہی امریکی سرزمین تک پہنچ جائیں گے۔” اس بیان کی تائید امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائلوں کی رینج میں ہر سال خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومت کی تبدیلی (Regime Change) کا خواب اور خوفناک نتائج اس رپورٹ کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ خود امریکی فوجی قیادت ایران میں کسی بھی ممکنہ ‘رجیم چینج’ کے نتائج سے بے خبر ہے۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کا ماننا ہے کہ اگر تہران میں موجودہ حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو یہ پیشین گوئی کرنا ناممکن ہے کہ اقتدار کس کے ہاتھ میں جائے گا۔

امریکی انٹیلی جنس کا اندازہ ہے کہ کسی بھی سیاسی خلا کی صورت میں ایران کی طاقتور ترین فورس ‘پاسداران انقلاب’ (IRGC) مکمل کنٹرول سنبھال سکتی ہے، جس سے خطے میں امریکا مخالف جذبات اور سکیورٹی کے مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔

لیبیا کے انجام سے ایران کا سبق ٹرمپ انتظامیہ عراق کی طرح ایک ‘فوری اور حیران کن’ (Shock and Awe) فوجی کامیابی کی توقع کر رہی ہے۔ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے تو یہاں تک حیرت کا اظہار کیا کہ امریکا کی اتنی بھاری فوجی طاقت دیکھ کر ایران نے اب تک گھٹنے کیوں نہیں ٹیکے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران نے لیبیا میں معمر قذافی کے انجام سے سبق سیکھا ہے۔ تہران کی قیادت جانتی ہے کہ اپنے دفاع اور بقا کے لیے ہتھیاروں کا حصول اور مضبوط ڈیٹرنس کس قدر ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران امریکی دباؤ کے باوجود انتہائی محتاط اور نپی تلی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button