ایرانتازہ ترین

ایران میں اسکول پر بمباری، ہیومن رائٹس واچ نے ممکنہ جنگی جرم کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ایران کے جنوبی شہر میناب میں ایک لڑکیوں کے پرائمری اسکول پر ہونے والے مہلک حملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس واقعے میں 165 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔

تنظیم کی جانب سے جاری تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو ہونے والے اس حملے میں ممکنہ طور پر جدید پریسیژن گائیڈڈ میزائل استعمال کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق اسکول اگرچہ ایک ایسے کمپاؤنڈ میں واقع تھا جو مبینہ طور پر ایرانی انقلابی گارڈ کی تنصیبات کے قریب تھا، تاہم اسکول کی عمارت ایک الگ دیوار کے ذریعے فوجی حصے سے جدا تھی اور اس کا الگ داخلی راستہ بھی موجود تھا، اس لیے اسے براہِ راست فوجی ہدف قرار دینا مشکل ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر، ماہرین کے تجزیے، امریکی حکام کے بیانات اور مختلف ذرائع سے حاصل معلومات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ دھماکا ممکنہ طور پر اس روز ہونے والی وسیع فضائی کارروائیوں کے دوران ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔

تنظیم کی محقق صوفیہ جونز نے کہا کہ اس واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملے کے وقت حملہ آوروں کو اس بات کا علم تھا یا نہیں کہ عمارت میں بڑی تعداد میں بچے موجود تھے۔ ان کے مطابق اگر حملہ جان بوجھ کر یا لاپرواہی کے ساتھ کیا گیا ہو تو اسے جنگی قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تنظیم نے حملے کے بعد جاری ہونے والی 14 ویڈیوز اور تصاویر کا جائزہ لیا، اس کے علاوہ 25 سال پر محیط سیٹلائٹ تصاویر اور حالیہ فضائی تصاویر کا بھی تجزیہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ایرانی حکام، امریکی اور اسرائیلی بیانات، اور مختلف میڈیا رپورٹس کو بھی تحقیق کا حصہ بنایا گیا۔ تاہم ایران میں انٹرنیٹ بندش اور مواصلاتی پابندیوں کے باعث متاثرہ افراد اور عینی شاہدین تک براہ راست رسائی محدود رہی۔

سیٹلائٹ تجزیے کے مطابق کمپاؤنڈ کے کم از کم آٹھ مختلف حصوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا جن میں اسکول کی عمارت بھی شامل تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نقصان کی نوعیت جدید گائیڈڈ ہتھیاروں کے استعمال سے مطابقت رکھتی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر اس حملے میں شہریوں کو غیر ضروری خطرے میں ڈالا گیا تو یہ بین الاقوامی جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ تنظیم نے امریکہ اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کے بارے میں مکمل تحقیقات کریں اور نتائج عوام کے سامنے پیش کریں۔

دوسری جانب بعض امریکی حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ امریکی فوجی تفتیش کار اس واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق حملہ ممکنہ طور پر امریکی کارروائی کے نتیجے میں ہوا، تاہم حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کے مطابق اگر اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات میں شہری ہلاکتوں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے حوالے سے ایک اہم انسانی اور قانونی مسئلہ بن سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button