تازہ ترینیورپ امریکا

کیا تیسری عالمی جنگ قریب ہے؟ فرانس کے ایٹمی وارہیڈز میں اضافے کے اعلان نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ فرانس اپنے جوہری وارہیڈز کی تعداد میں اضافہ کرے گا اور آئندہ اپنے جوہری ذخیرے کی تفصیلات عوامی طور پر ظاہر نہیں کرے گا۔ بریسٹ میں واقع آئل لونگ نیوکلیئر بیس پر خطاب کرتے ہوئے میکرون نے اس فیصلے کو بدلتے ہوئے عالمی سکیورٹی ماحول کا تقاضا قرار دیا۔

میکرون نے کہا کہ یورپ کو درپیش بڑھتے خطرات، خاص طور پر روس کے ساتھ کشیدگی اور امریکہ و یورپ کے تعلقات میں غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں فرانس کو اپنی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط بنانا ہوگی۔ ان کے الفاظ میں، “آزاد رہنے کے لیے ہمیں ایسا ہونا چاہیے کہ دشمن ہم سے خوفزدہ رہے، اور خوفزدہ کرنے کے لیے طاقتور ہونا ضروری ہے۔”

فرانس یورپی یونین کا واحد ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ اس کا جوہری دفاعی نظام سمندری اور فضائی دونوں پلیٹ فارمز پر مشتمل ہے، جن میں جوہری آبدوزیں اور فضائیہ کے طیارے شامل ہیں۔ اگرچہ میکرون نے وارہیڈز کی درست تعداد نہیں بتائی، تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ فرانسیسی جوہری قوت “مضبوط اور مؤثر” رہے گی۔

یہ فیصلہ گزشتہ کئی دہائیوں میں پہلی بار فرانس کے جوہری ہتھیاروں میں باضابطہ اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے اعلان کیا کہ آئندہ جوہری ذخیرے کے اعداد و شمار عام نہیں کیے جائیں گے، جو پہلے محدود پیمانے پر شائع کیے جاتے تھے۔

میکرون نے اس نئی پالیسی کو “ایڈوانسڈ ڈیٹرنس” یا جدید بازدارانہ حکمتِ عملی کا نام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکمتِ عملی نیٹو کی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوگی، نہ کہ اس کی جگہ لے گی۔ اگرچہ فرانس نیٹو کے نیوکلیئر پلاننگ گروپ کا حصہ نہیں، لیکن وہ اپنے جوہری نظام کو اتحاد کی مجموعی دفاعی صلاحیت میں معاون سمجھتا ہے۔

صدر میکرون نے مزید اعلان کیا کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے روایتی میزائلوں کی مشترکہ تیاری پر بھی کام کریں گے، تاکہ غیر جوہری دفاعی صلاحیت کو بھی تقویت دی جا سکے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یورپ میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اور عالمی طاقتوں کے درمیان مسابقت کے تناظر میں ایک اہم موڑ ہے۔ تاہم ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ جوہری ہتھیاروں میں اضافہ خطے میں اسلحہ کی دوڑ کو تیز کر سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button