اسرائیل اور امریکہ کا ایران کے خلاف مشترکہ وسیع آپریشن، درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف ایک مشترکہ اور وسیع فوجی آپریشن کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر ایرانی نظام کی عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا اور اسرائیل کو درپیش خطرات کا خاتمہ کرنا ہے۔
فوجی بیان کے مطابق کارروائی کے دوران ایران میں درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایک بڑی، مربوط اور مشترکہ مہم کا حصہ ہیں، جس کی منصوبہ بندی کئی ماہ قبل شروع کی گئی تھی۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران نے اسرائیل کے خلاف اپنے عزائم ترک نہیں کیے اور حالیہ مہینوں میں اپنے جوہری پروگرام کو محفوظ بنانے، میزائل تیاری کے عمل کو بحال کرنے اور خطے میں اتحادی گروہوں کی مدد جاری رکھی۔ بیان میں ان اقدامات کو اسرائیل کے لیے “وجودی خطرہ” قرار دیا گیا ہے۔
مشترکہ منصوبہ بندی اور تیاری
اسرائیلی فوج کے مطابق اس کارروائی سے قبل اسرائیلی اور امریکی افواج کے درمیان قریبی رابطہ اور مشترکہ منصوبہ بندی کی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دفاعی اور حملہ آور دونوں نوعیت کی تیاریوں پر طویل عرصے سے کام جاری تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ ردِعمل کا مقابلہ کیا جا سکے۔

چیف آف اسٹاف جنرل ایال زمیر اور دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا ہے، جبکہ اسرائیلی افواج کو مختلف محاذوں پر ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہوم فرنٹ کمانڈ کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں، کیونکہ حکام کے مطابق عوامی احتیاط جنگی حالات میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
فضائی حملے جاری
فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ ایران کے مختلف حصوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اور یہ آپریشن ضرورت کے مطابق جاری رہے گا۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے فوری طور پر اس بیان پر تفصیلی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ کارروائیاں اور جوابی اقدامات جاری رہے تو صورتحال وسیع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
فی الحال عالمی برادری کی نظریں مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی صورتحال پر مرکوز ہیں، جبکہ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔



