
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مسلسل حملوں کے دوران اسرائیل اور امریکا کے دفاعی نظام پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے، اور اب ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے انٹرسیپٹر میزائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
برطانیہ کے معروف دفاعی تحقیقی ادارے کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق اسرائیل اپنے اہم دفاعی نظام "ایرو 2” اور "ایرو 3” میزائلوں کا بڑا حصہ استعمال کر چکا ہے، جو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح امریکا کے جدید THAAD دفاعی نظام کے میزائل، جو خلیجی ممالک کے دفاع کے لیے تعینات ہیں، بھی بڑی حد تک خرچ ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں اس صورتحال کو ایک اہم اسٹریٹجک چیلنج قرار دیا گیا ہے، جہاں ایران نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے حملے کر رہا ہے، جبکہ ان حملوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے امریکی اور اسرائیلی میزائل انتہائی مہنگے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ "لاگت کا عدم توازن” طویل جنگ کی صورت میں دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو اسرائیل اور امریکا کو اپنے دفاعی ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے یا تو پیداوار میں تیزی لانا ہوگی یا پھر اپنی دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی کرنا پڑے گی۔ بعض ماہرین کے مطابق کم لاگت متبادل جیسے لیزر ڈیفنس سسٹمز یا الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی پر بھی توجہ بڑھائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب خلیجی ممالک بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ ان کا دفاع بڑی حد تک امریکی میزائل سسٹمز پر منحصر ہے۔ اگر یہ ذخائر مزید کم ہوئے تو خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ جنگ صرف میدان تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک طویل مدتی دفاعی اور معاشی مقابلہ بھی بن چکی ہے، جہاں وسائل، ٹیکنالوجی اور حکمت عملی سب اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا دفاعی نظام اس دباؤ کو برداشت کر پاتے ہیں یا نہیں، کیونکہ اس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔



