
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اسرائیل اور امریکہ میں اس تنازع کے ممکنہ نتائج کے بارے میں اندازے تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں اور حکام کے مطابق ابتدائی طور پر ایران میں حکومت کی تبدیلی جیسے امکانات پر بات کی جا رہی تھی، تاہم اب دونوں ممالک کے پالیسی حلقوں میں اس امکان کو بتدریج کم اہمیت دی جا رہی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی حکام نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران کا سیاسی اور حکومتی ڈھانچہ توقع سے کہیں زیادہ مضبوط اور منظم ہے۔ اسی وجہ سے جنگ کے اہداف کو اب زیادہ تر ایران کی فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنے تک مرکوز کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے بھی جنگ کے مقاصد کے بارے میں مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ ابتدا میں بعض بیانات میں ایران میں سیاسی تبدیلی یا آزادی کی بات کی گئی تھی، تاہم بعد میں امریکی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل مقصد ایران کی فوجی اور اسٹریٹجک صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔

کچھ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی ہو بھی جائے تو ایران ممکنہ طور پر اپنے جوہری پروگرام کے لیے استعمال ہونے والے افزودہ مواد کو دوبارہ منظم کر سکتا ہے اور اپنی فوجی صلاحیت کو بحال کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس خدشے کے باعث بعض حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ مستقبل میں مزید فوجی کارروائیوں یا طویل مدتی سیکیورٹی حکمت عملی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران ایرانی معاشرے میں بھی غیر متوقع ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق ایران کے شہری علاقوں میں حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے بعض حلقے بھی بیرونی حملوں کے بعد ریاست کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں، جسے قومی یکجہتی کی ایک شکل قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور امریکہ و اسرائیل کو ایک زیادہ سخت مؤقف رکھنے والے ایران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں مستقبل میں بار بار فوجی کارروائیوں یا طویل مدتی سیکیورٹی اقدامات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ادھر بعض امریکی حکام نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ موجودہ جنگ کا حتمی نتیجہ ابھی واضح نہیں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو نہ صرف جنگی حکمت عملی بلکہ عالمی توانائی منڈی اور تیل کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران جنگ کے نتائج نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اسی لیے دنیا بھر میں اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔



