ایرانتازہ ترین

ایران جنگ پر جیک سلیوان کی تنقید، ٹرمپ پر جلد بازی میں فیصلہ کرنے کی تنقید

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )سامح عسکر ( مصنف تجزیہ کار)

امریکہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے ایران کے خلاف جاری امریکی۔اسرائیلی جنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ بظاہر مکمل حکمتِ عملی اور واضح اہداف کے بغیر شروع کی گئی ہے، جس کے باعث اس کے مستقبل اور نتائج کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے پروگرام میں میزبان فرید زکریا سے گفتگو کرتے ہوئے سلیوان نے کہا کہ امریکی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور آپریشنل مہارت قابلِ تعریف ہے، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ فوج کو ایک ایسے مقصد کے لیے میدان میں بھیجا جا رہا ہے جس کی واضح وضاحت ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

ان کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکی حکومت کی جانب سے اس کے مقاصد کے بارے میں مختلف اور متضاد وضاحتیں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس جنگ کا حتمی ہدف کیا ہے اور اسے کب اور کیسے ختم کیا جائے گا۔”

“غیر واضح مقصد خطرناک ہو سکتا ہے”

جیک سلیوان نے خبردار کیا کہ کسی بھی فوجی کارروائی کے آغاز سے پہلے واضح سیاسی اور عسکری حکمتِ عملی ہونا ضروری ہے۔ ان کے بقول اب تک چھ امریکی فوجیوں کی ہلاکت ہو چکی ہے جبکہ جنگ کے اصل مقصد کے بارے میں ابہام برقرار ہے، جو ایک خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر جنگ کا مقصد واضح نہ ہو تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کس مرحلے پر امریکی قیادت یہ فیصلہ کرے گی کہ فوجی کارروائی ختم کر دی جائے۔

وینزویلا آپریشن کا ممکنہ اثر

گفتگو کے دوران سلیوان نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وینزویلا میں ہونے والی حالیہ امریکی خصوصی فوجی کارروائی، جس میں صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنی ہو۔

ان کے مطابق اس کامیاب کارروائی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو یہ تاثر ملا ہو سکتا ہے کہ امریکی فوجی طاقت کو دنیا کے کسی بھی حصے میں آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن ہر خطے کی صورتحال مختلف ہوتی ہے اور ہر بحران کے لیے الگ حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے۔

آئندہ مراحل پر غیر یقینی صورتحال

سلیوان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں وائٹ ہاؤس کو اس سوال کا سامنا ہے کہ آگے کیا کیا جائے۔ ان کے مطابق کچھ رپورٹس میں زمینی فوج بھیجنے کے امکان کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ بعض حلقے مکمل نظام کی تبدیلی (Regime Change) کی بات کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ کے مقاصد واضح نہ ہوں تو فیصلہ سازی مزید مشکل ہو جاتی ہے اور یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے حالیہ دنوں میں ایران میں مختلف فوجی اور اسٹریٹجک اہداف پر حملے کیے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سلامتی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button