
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر ایک اہم طیارے کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے، جسے ایرانی قیادت اور اعلیٰ حکام کے زیرِ استعمال بتایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائی رات کے وقت کی گئی، جس میں اس طیارے کو ہدف بنایا گیا جو ماضی میں ایران کی اعلیٰ قیادت، بشمول اہم سرکاری اور فوجی شخصیات، کے سفری اور رابطہ مقاصد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طیارے کے ذریعے نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونِ ملک اہم دوروں اور اتحادی ممالک سے رابطوں میں بھی سہولت فراہم کی جاتی تھی۔
مہرآباد ایئرپورٹ، جو تہران کا ایک قدیم اور مصروف ہوائی اڈہ ہے، بیک وقت شہری اور عسکری دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے مقامات پر حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تنازع اب حساس اور اسٹریٹجک تنصیبات تک پھیل چکا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے صرف فوجی نقصان تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان کا مقصد علامتی اور نفسیاتی اثر بھی پیدا کرنا ہوتا ہے، تاکہ مخالف قیادت اور نظام پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ ان کے مطابق اس طرح کے اہداف کو نشانہ بنانا ایک واضح پیغام ہوتا ہے کہ جنگ اب اعلیٰ سطحی انفراسٹرکچر تک پہنچ چکی ہے۔

تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق موجودہ جنگی حالات میں دونوں جانب سے معلومات کو کنٹرول کیا جا رہا ہے، جس کے باعث مکمل تصویر سامنے آنا مشکل ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب، اس واقعے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے بھی تفصیلی ردعمل محدود رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگی حالات میں معلومات کا بہاؤ محدود ہونے کی وجہ سے ایسی خبروں کی مکمل تصویر فوری طور پر واضح نہیں ہو پاتی۔
علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے حملے جاری رہے تو یہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے اور حساس تنصیبات کے ساتھ ساتھ سفارتی و اقتصادی اہداف بھی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔



