(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل، جو کبھی تیز رفتار ترقی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک مضبوط معیشت سمجھا جاتا تھا، اب مسلسل جنگی حالات کے باعث معاشی دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔
2023 کے بعد شروع ہونے والی متعدد محاذوں پر جنگوں، خصوصاً ایران کے ساتھ کشیدگی، نے معیشت کی سمت بدل دی ہے اور اب توجہ ترقی کے بجائے استحکام برقرار رکھنے پر مرکوز ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں قومی بجٹ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ حکومت کو دیگر شعبوں جیسے صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے لیے فنڈز کم کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ ٹیکسوں میں اضافے نے متوسط طبقے پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔
لیبر مارکیٹ بھی شدید متاثر ہوئی ہے کیونکہ بڑی تعداد میں ماہر افراد کو فوجی خدمات کے لیے طلب کیا گیا، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور کئی چھوٹے کاروبار بند ہو گئے۔ تعمیرات اور زراعت کے شعبے بھی افرادی قوت کی کمی کے باعث سست روی کا شکار ہیں۔
تاہم ٹیکنالوجی کا شعبہ اب بھی اسرائیلی معیشت کا اہم ستون بنا ہوا ہے، جہاں دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرونز اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق کمپنیوں میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگی حالات نے اس شعبے کو ایک نئی سمت دی ہے، لیکن ساتھ ہی بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
اسرائیل کی معیشت مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی، مگر اب وہ ایک “جنگی معیشت” میں تبدیل ہو رہی ہے، جہاں زیادہ ٹیکس، بڑھتے دفاعی اخراجات اور مسلسل غیر یقینی صورتحال مستقبل کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔
آنے والے برسوں میں اسرائیل کی معاشی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ وہ کس حد تک دفاعی ضروریات اور اقتصادی ترقی کے درمیان توازن برقرار رکھ پاتا ہے۔