
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
بیروت/تل ابیب: اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے سرحدی دیہات میں متعدد گھروں کو مسمار کرنا شروع کر دیا ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں حزب اللہ کی جانب سے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق نشانہ بنائے گئے گھروں کو مبینہ طور پر نگرانی، اینٹی ٹینک حملوں اور جنگی پوزیشنز کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اسرائیل کی سرحدی بستیوں کو لاحق خطرات کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
دفاعی حکام کے مطابق یہ اقدامات جنوبی لبنان میں دریائے لیتانی کے جنوب میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس میں پلوں اور دیگر تنصیبات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اسرائیلی قیادت کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد مستقبل میں حملوں کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
ادھر زمینی آپریشن کے دوران اسرائیلی فوج مزید اندرونی علاقوں تک پیش قدمی کر رہی ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں متعدد حزب اللہ جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے اور انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض گرفتار افراد کا تعلق بیروت سے ہے اور ان میں “حوصلہ کمزور” ہونے کے آثار دیکھے گئے ہیں، جبکہ دیگر جنگجو شمال کی جانب پسپا ہو گئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں فضائی، بحری اور زمینی حملوں کے ذریعے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز، لانچنگ سائٹس اور کمانڈ سینٹرز شامل ہیں۔ فوجی بیان کے مطابق گزشتہ ایک دن میں 40 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
دوسری جانب زمینی جنگ میں حزب اللہ کی جانب سے گوریلا طرز کی حکمت عملی اپنائے جانے کی اطلاعات ہیں، جہاں مبینہ طور پر تباہ شدہ عمارتوں اور رہائشی علاقوں کو پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں جاری یہ کارروائیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں، جبکہ جنگ کے بعد بھی اسرائیل کی جانب سے اس علاقے میں طویل مدت تک کنٹرول برقرار رکھنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں زمینی جنگ، فضائی حملے اور غیر روایتی حکمت عملی ایک ساتھ استعمال ہو رہی ہیں، جس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔



