
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران اور لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بیک وقت بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ اس پیش رفت کو ماہرین خطے میں جنگ کے دائرہ کار کے پھیلاؤ کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں "ایرانی حکومت سے وابستہ اہم تنصیبات” اور لبنان میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں محاذوں پر ہم آہنگی کے ساتھ وسیع فضائی حملے کیے جا رہے ہیں تاکہ مخالف قوتوں کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
دوسری جانب تہران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی افواج نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب میزائل حملے کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے مختلف علاقوں، بشمول وسطی علاقوں اور یروشلم کے قریب، الرٹ جاری کیے گئے اور دفاعی نظام متحرک کر دیا گیا۔

لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں بیروت کے جنوبی مضافات اور دیگر علاقوں میں فضائی حملوں کی اطلاعات ہیں۔ حزب اللہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں سرحدی علاقوں میں فوجی اجتماع اور ایک ٹینک بھی شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ اسرائیل نے ایک ہی وقت میں دو بڑے محاذوں پر اس سطح کی کارروائی کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ اب محدود دائرے سے نکل کر ایک وسیع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر رہی ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس طرح کی بیک وقت کارروائیاں خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر جب مختلف ممالک اور گروہ اس تنازع میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہو رہے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے تہران اور بیروت میں بیک وقت حملوں نے جنگ کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جہاں کشیدگی میں مزید اضافے اور وسیع علاقائی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔



