
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )اسرائیلی فوج کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے اور اسرائیل کم از کم ایک ماہ تک جاری رہنے والی فوجی مہم کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس آپریشن کا بنیادی مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل نظام کو شدید نقصان پہنچانا اور اس کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔
اسرائیلی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک “اہم اسٹریٹجک موقع” فراہم کر رہی ہے جس کے ذریعے ایران کی فوجی طاقت کو طویل عرصے کے لیے کمزور کیا جا سکتا ہے۔ ایک سینئر فوجی افسر کے مطابق اسرائیل اور امریکہ دونوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دباؤ برقرار رکھنا چاہیے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق جنگ کے ابتدائی مرحلے میں زیادہ تر کارروائیاں اسرائیلی فضائیہ نے انجام دیں، تاہم اب توقع ہے کہ امریکی فوجی طاقت اس مہم میں مزید فعال کردار ادا کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اہداف، علاقوں اور کارروائیوں کے حوالے سے قریبی ہم آہنگی موجود ہے۔

اسرائیلی فوج کے اندازوں کے مطابق جنگ کے آغاز پر ایران کے پاس تقریباً 460 بیلسٹک میزائل لانچر موجود تھے، جن کی تعداد اسرائیلی حملوں کے بعد کم ہو کر تقریباً 150 رہ گئی ہے۔ تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیت اب بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔
اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق اگلے مرحلے میں ایران کی فوجی، صنعتی اور تکنیکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے مزید منظم حملے کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ میزائل لانچنگ سائٹس، کمانڈ سینٹرز اور زیر زمین تنصیبات کو تباہ کرنے کی کوشش جاری رہے گی تاکہ ایران کی جوابی حملوں کی صلاحیت محدود کی جا سکے۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال زامیر نے بھی عوام کو طویل جنگ کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تنازع اسرائیل کی آئندہ سکیورٹی اور خطے کے توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
تاہم بعض دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ صرف فوجی کارروائیوں سے ایران میں حکومت کی تبدیلی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ فوجی دباؤ ایران کی صلاحیتوں کو کمزور کر سکتا ہے، لیکن کسی بڑی سیاسی تبدیلی کے لیے اندرونی عوامی ردعمل بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کئی ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر زور دے رہے ہیں۔



