
(تازہ حالات رپورٹ )
واشنگٹن/لندن/عمان: امریکا نے ایک منظم اور غیرمعمولی فضائی آپریشن کے تحت کم از کم 18 ایف-35 اے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے برطانیہ سے اردن منتقل کر دیے ہیں، جسے حالیہ برسوں میں ایف-35 طیاروں کی بڑی نقل و حرکت قرار دیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ طیارے 16 فروری کو برطانیہ کے آر اے ایف لیکن ہیتھ اڈے سے روانہ ہوئے اور فضائی ایندھن بردار طیاروں کی مدد سے اردن کے موفق السلطی ایئر بیس (ازرق) پہنچے۔ اوپن سورس انٹیلی جنس اور فضائی نگرانی کے پلیٹ فارمز نے اس پیش رفت کی نشاندہی کی ہے، تاہم امریکی محکمہ دفاع نے معمول کے مطابق اس مخصوص تعیناتی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
بڑی فضائی تعیناتی
ذرائع کے مطابق طیارے تین، تین کے گروپ کی صورت میں پرواز کرتے رہے اور انہیں متعدد کے سی-135 اسٹریٹو ٹینکر طیاروں کی مدد حاصل رہی۔ اگر اس تازہ کھیپ کو پہلے سے موجود طیاروں کے ساتھ ملا دیا جائے تو اردن میں موجود امریکی ایف-35 طیاروں کی تعداد 30 کے قریب پہنچ سکتی ہے۔

موفق السلطی ایئر بیس اس وقت خطے میں امریکی فضائی سرگرمیوں کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل، اے-10 تھنڈر بولٹ اور الیکٹرانک وارفیئر طیارے بھی موجود ہیں۔ دفاعی نظام کے طور پر پیٹریاٹ میزائل سسٹم اور ممکنہ طور پر تھاڈ بیٹریاں بھی تعینات ہیں۔
بحری قوت میں بھی اضافہ
فضائی تعیناتی کے ساتھ ساتھ امریکی بحری بیڑے کی موجودگی میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یو ایس ایس ابراہام لنکن بحیرہ عرب میں موجود ہے جبکہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بھی خطے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق دو طیارہ بردار بیڑوں کی بیک وقت موجودگی امریکی حملہ آور صلاحیت اور دفاعی دباؤ دونوں کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ سی-17 کارگو طیاروں کے ذریعے اردن، قطر، بحرین اور سعودی عرب میں سازوسامان اور فوجی نفری کی منتقلی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جو ممکنہ طویل المدتی آپریشنل تیاریوں کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔
سفارت کاری کے ساتھ فوجی دباؤ
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو “سنگین نتائج” سامنے آ سکتے ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کی گئی ہیں اور سرکاری میڈیا نے اردن کے اڈے کی ویڈیوز نشر کر کے اسے ممکنہ جنگی تیاری قرار دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام اور پابندیوں تک محدود رہنے چاہئیں، جبکہ میزائل پروگرام کو زیرِ بحث لانے سے انکار کیا جا رہا ہے۔
کشیدگی مگر براہِ راست تصادم نہیں
ابھی تک کسی براہِ راست حملے یا جھڑپ کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سطح کی فوجی تعیناتی خطے میں حالیہ برسوں کی بڑی سرگرمیوں میں شمار ہو سکتی ہے۔ ایک طرف سفارت کاری جاری ہے تو دوسری طرف طاقت کا مظاہرہ بھی واضح دکھائی دے رہا ہے، جس سے خطے کی صورتحال نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
آنے والے دنوں میں جنیوا مذاکرات کے نتائج اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ فوجی دباؤ صرف سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے یا خطہ کسی بڑے تصادم کی جانب بڑھ رہا ہے۔



