
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج نے ایران کو ایک سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی قیادت میں ہونے والی کسی بھی نئی تقرری پر وہ نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) نے فارسی زبان میں سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران میں سپریم لیڈر کے نئے جانشین کا تقرر کیا جاتا ہے تو اسرائیل اس عمل میں شامل ہر فرد کو ممکنہ ہدف سمجھ سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ “اسرائیل کا ہاتھ ہر اس شخص تک پہنچ سکتا ہے جو ایران کی قیادت کے نئے جانشین کے انتخاب یا اس عمل میں شامل ہوگا۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ اس عمل میں شرکت کرنے والوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کسی بھی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر کے ممکنہ جانشین کے معاملے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق مجلسِ خبرگان کے رکن آیت اللہ محمد مہدی میرباقری نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر اکثریتی اتفاق رائے تقریباً حاصل ہو چکا ہے، تاہم چند انتظامی معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی مجلسِ خبرگان، جو سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ دار ہے، اس بات پر غور کر رہی ہے کہ حتمی فیصلہ باقاعدہ اجلاس کے ذریعے کیا جائے یا کسی متبادل طریقہ کار کے تحت اعلان کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں قیادت کی تبدیلی کے ممکنہ عمل اور اسرائیل کی سخت وارننگ نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے باعث سیاسی اور عسکری صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
دفاعی مبصرین کے مطابق اگر قیادت کے مسئلے پر ایران میں کوئی بڑی پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔



