ایرانتازہ ترین

مغربی کنارے پر اسرائیلی اقدامات، امریکا کی مخالفت برقرار

(تازہ حالات رپورٹ )

رفح بارڈر پر ’’ریاستِ فلسطین‘‘ کی مہر پر بھی نیتن یاہو کی تشویش

مقبوضہ بیت المقدس / واشنگٹن:
امریکا نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے اسرائیل میں باضابطہ الحاق کی حمایت نہیں کرتا، جبکہ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی جانب سے ایسے اقدامات منظور کیے گئے ہیں جنہیں فلسطینی مستقبل کی ریاستی حدود پر اسرائیلی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اس مؤقف پر قائم ہیں کہ مغربی کنارے کا الحاق خطے کے امن کے خلاف ہوگا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایک مستحکم مغربی کنارہ نہ صرف اسرائیل کی سلامتی کے لیے ضروری ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے امریکی ہدف سے بھی ہم آہنگ ہے۔

اگرچہ امریکی بیان میں اسرائیلی فیصلوں کی براہِ راست مذمت نہیں کی گئی، تاہم مبصرین کے مطابق یہ اقدامات اوسلو معاہدوں کی روح کے منافی سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ ان کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے زیرِانتظام علاقوں میں اسرائیلی انتظامی اختیارات بڑھائے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی فیصلے کیا ہیں؟

اتوار کے روز اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل اسموٹریچ اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا کہ سکیورٹی کابینہ نے یہودی اسرائیلیوں کو مغربی کنارے میں براہِ راست زمین خریدنے کی اجازت دینے، اور ہیبرون میں یہودی بستیوں کے تعمیراتی اجازت ناموں کا اختیار فلسطینی اتھارٹی سے لے کر اسرائیل کو دینے کی منظوری دے دی ہے۔

اس کے علاوہ بیت لحم کے قریب حضرت راحیلؑ کے مزار اور ہیبرون میں مقبرۂ ابراہیمی جیسے اہم مذہبی مقامات پر بھی اسرائیلی کنٹرول مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عالمی ردِعمل

ان فیصلوں پر عرب اور مسلم ممالک، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین نے ان اقدامات کو ’’غلط سمت میں قدم‘‘ قرار دیا، جبکہ کئی اسلامی ممالک نے انہیں خطرناک اشتعال انگیزی کہا ہے جو دو ریاستی حل کے امکانات کو کمزور کرتی ہے۔

رفح بارڈر پر ’’ریاستِ فلسطین‘‘ کی مہر کا معاملہ

اسی تناظر میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے رفح بارڈر سے گزرنے والے فلسطینی مسافروں کے پاسپورٹس پر ’’ریاستِ فلسطین‘‘ کی مہر کے استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے ہدایت دی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی سرکاری مہر کے بجائے ممکنہ طور پر ’’پیس کونسل‘‘ (Peace Council) کی مہر استعمال کرنے کے امکان کا جائزہ لیا جائے، جو کہ ایک امریکی تجویز کردہ عبوری انتظامی ڈھانچے کا حصہ بتائی جاتی ہے۔

یہ ہدایت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی داخلی سلامتی ادارے شن بیت کے سربراہ نے کابینہ اجلاس میں بتایا کہ رفح کراسنگ پر اب بھی فلسطینی پاسپورٹس پر ’’State of Palestine‘‘ کی مہر لگ رہی ہے۔

غزہ میں پہلی بار کسی غیر ملکی فوج کی تعیناتی کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے تحت دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک انڈونیشیا کے ہزاروں فوجی غزہ بھیجے جانے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ فوجی ایک بین الاقوامی استحکامی فورس کا حصہ ہوں گے اور انہیں رفح اور خان یونس کے درمیان قائم کیے جانے والے مخصوص علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ فوج کی رہائش اور بنیادی انتظامات کے لیے فیلڈ کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ اس اقدام کو غزہ میں سلامتی اور استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی و علامتی اہمیت

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک مہر کا نہیں بلکہ فلسطینی ریاستی شناخت اور خودمختاری کے کسی بھی رسمی اظہار پر اسرائیلی حساسیت کی علامت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات فلسطینی سیاسی ڈھانچے کو کمزور کرنے اور متبادل انتظامی ادارے قائم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

امریکا اور اسرائیل کی قیادت کے درمیان متوقع ملاقات میں بنیادی توجہ اگرچہ ایران پر مرکوز رہے گی، تاہم مغربی کنارے اور غزہ سے متعلق معاملات بھی ایجنڈے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ مغربی کنارے میں بڑھتی کشیدگی غزہ میں استحکام کی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

مجموعی طور پر مبصرین کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے پر اسرائیلی اقدامات اور رفح بارڈر سے متعلق فیصلے خطے میں پہلے سے نازک سیاسی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں زیادہ واضح ہوں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button