
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ایران اور حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے 90 فیصد سے زائد ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے، جسے حالیہ جاری آپریشن میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق “آپریشن روئرنگ لائن” کے آغاز کے بعد سے ایران اور اس کے اتحادی گروہ حزب اللہ مسلسل ڈرون حملے کر رہے ہیں، تاہم اسرائیلی فضائیہ جدید دفاعی نظام اور انٹیلی جنس کے ذریعے ان خطرات کو بڑی حد تک ناکام بنانے میں کامیاب رہی ہے۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ایران اور حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ڈرونز کو روکنے کے لیے مختلف دفاعی نظام استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں فضائی دفاعی میزائل سسٹمز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
تاہم رپورٹس کے مطابق لیزر پر مبنی دفاعی نظام "آئرن بیم” ابھی تک ڈرون حملوں کو روکنے میں نمایاں کردار ادا نہیں کر سکا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ابھی بھی روایتی دفاعی نظاموں پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے ڈرون بیڑے کا صرف ایک تہائی حصہ ہی تباہ کیا جا سکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اب بھی بڑی تعداد میں ڈرونز استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ صرف 24 گھنٹوں کے دوران حزب اللہ نے 600 کے قریب حملے کیے، جو کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جدید جنگ میں ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، کیونکہ یہ نسبتاً کم لاگت اور زیادہ مؤثر ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دفاعی نظاموں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، خاص طور پر جب بڑی تعداد میں ڈرونز بیک وقت استعمال کیے جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیل نے بڑی حد تک ڈرون حملوں کو ناکام بنایا ہے، لیکن مسلسل حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران اور حزب اللہ اب بھی ایک سنجیدہ خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے اور طویل تصادم کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔



