ایرانتازہ ترین

تہران پر اسرائیلی فضائی حملے، امریکی کارروائی میں ایرانی ڈرون کیریئر کو بھی نشانہ بنایا گیا

تہران: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران جمعہ کی صبح تہران پر ایک بار پھر شدید فضائی حملے کیے گئے، جبکہ امریکی فوج نے بھی سمندر میں ایک بڑے ایرانی ڈرون کیریئر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تازہ حملوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے تہران میں ایرانی حکومت کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کی ایک نئی اور وسیع لہر شروع کی۔ اسرائیلی فوجی بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے تصدیق کی کہ تہران کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکے سنے گئے۔ رپورٹ کے مطابق شہر کے مشرقی اور وسطی حصوں میں فضائی حملوں کے بعد دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق وسطی تہران کی جمہوری اسٹریٹ پر ایک رہائشی عمارت بھی حملے کی زد میں آئی۔

ادھر ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق قم شہر کے قریب دو فوجی مراکز کو بھی میزائل حملوں میں نشانہ بنایا گیا، تاہم مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے اعلان کیا کہ اس نے سمندر میں موجود ایک بڑے ایرانی ڈرون کیریئر کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد اس جہاز میں آگ لگ گئی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ جہاز سائز میں دوسری جنگِ عظیم کے طیارہ بردار جہازوں کے برابر تھا اور اسے ایرانی بحریہ کے لیے اہم پلیٹ فارم سمجھا جاتا تھا۔

CENTCOM کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کے مطابق جاری جنگ کے دوران امریکی افواج اب تک 30 سے زیادہ ایرانی بحری جہازوں کو تباہ یا ڈبو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارروائیوں کا مقصد صرف ایرانی میزائلوں کو روکنا نہیں بلکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے صنعتی ڈھانچے کو بھی کمزور کرنا ہے۔

اس سے قبل بدھ کے روز سری لنکا کے قریب ایک ایرانی بحری جہاز IRIS Dena پر امریکی حملے میں درجنوں ملاح ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جسے مشرقِ وسطیٰ سے باہر اس جنگ کا پہلا بڑا فوجی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے پاس ایسے نئے ہتھیار اور ٹیکنالوجی موجود ہیں جو اب تک استعمال نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حملے جاری رہے تو ایران نئی عسکری صلاحیتیں میدان میں لا سکتا ہے۔

چند گھنٹے قبل ایران نے بھی اسرائیل کے شہر تل ابیب کی جانب ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے کیے تھے، جسے آپریشن “وعدہ صادق 4” کی بیسویں لہر قرار دیا گیا۔ ان حملوں میں بعض مقامات پر مادی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یاد رہے کہ 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ایران بھی اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور بڑھتی جا رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button