(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی فوج کے اعلیٰ کمانڈر نے واضح کیا ہے کہ Hezbollah کے ساتھ کسی باضابطہ جنگ بندی کا وجود نہیں ہے، اور حالات کسی بھی وقت دوبارہ مکمل جنگ کی طرف جا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کے ساتھ ایک محدود جنگ بندی پر بات ہو رہی ہے، تاہم لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی افواج بدستور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جبکہ جواب میں حزب اللہ نے بھی اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے، کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود لبنان کا محاذ کھلا ہوا ہے، جس سے خطے میں ایک نئی اور وسیع جنگ کا خطرہ برقرار ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ابہام نے سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کیا ہے، کیونکہ مختلف ممالک اس بات پر متفق نہیں کہ جنگ بندی کا دائرہ کہاں تک محدود ہے۔
ادھر اسرائیلی قیادت کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں، جبکہ لبنان اور ایران اس موقف کو مسترد کرتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ لبنان میں کشیدگی میں اضافہ نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی سیاسی اور معاشی استحکام پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں کسی بھی معمولی جھڑپ کے بڑے تصادم میں تبدیل ہونے کا خدشہ موجود ہے، جس کے باعث خطے میں جنگ کے بادل تاحال چھٹے نہیں۔