
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیلی فوج کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر افرادی قوت کی کمی کا فوری حل نہ نکالا گیا تو فوج کو اندرونی طور پر شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس کے دوران آرمی چیف نے کہا کہ وہ "10 واضح خطرے کے اشارے” دے رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال سنگین رخ اختیار کر رہی ہے۔
فوجی ذرائع کے مطابق جاری جنگی حالات نے اس مسئلے کو مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں نہ صرف محاذوں پر دباؤ بڑھا ہے بلکہ ریزرو فوجیوں پر بھی غیر معمولی بوجھ پڑ رہا ہے۔ اسرائیل کو بیک وقت غزہ، لبنان، شام اور مغربی کنارے جیسے مختلف محاذوں پر اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنی پڑ رہی ہے، جس کے لیے بڑی تعداد میں اہلکار درکار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران صرف جنگ تک محدود نہیں بلکہ امن کے دور میں بھی اسرائیل کو مزید فوجیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم موجودہ قوانین کے تحت الٹرا آرتھوڈوکس (ہریڈی) طبقے کی فوج میں شمولیت محدود ہے، جسے افرادی قلت کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس معاملے پر سیاسی اختلافات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی بھرتیوں میں تاخیر اور پالیسی میں واضح سمت کی کمی مستقبل میں ایک بڑے سیکیورٹی بحران کا باعث بن سکتی ہے۔ بعض رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو آئندہ کسی بھی بڑے واقعے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب حکومت پر یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ وہ ہریڈی بھرتی سے متعلق متنازع قانون سازی کو سیاسی مفادات کے تحت آگے بڑھا رہی تھی، تاہم جنگ کے آغاز کے بعد اسے عارضی طور پر روک دیا گیا۔ ناقدین کے مطابق اس تاخیر نے فوجی تیاریوں کو مزید متاثر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج اس وقت ایک دوہرے دباؤ کا شکار ہے، جہاں ایک طرف اسے جاری جنگی محاذوں کو سنبھالنا ہے اور دوسری طرف اندرونی سطح پر افرادی کمی کا سامنا ہے۔ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف فوجی کارکردگی بلکہ قومی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ معاملہ اسرائیلی سیاست اور سیکیورٹی پالیسی کا مرکزی موضوع بن سکتا ہے، کیونکہ فوجی صلاحیت کا براہ راست تعلق ملک کی مجموعی دفاعی حکمت عملی سے ہے۔



