
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں اسرائیلی فوج (IDF) جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ فضائیہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق کارروائیوں کا مقصد سرحدی علاقوں میں سکیورٹی خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میزائل حملوں کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک ایرانی میزائل نے وسطی اسرائیل میں ہدف کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق نقصان کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں اور واقعے کی مزید معلومات سامنے آ رہی ہیں۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے (IAEA) نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے زیرِ زمین نطنز فیول اینرچمنٹ پلانٹ کے داخلی حصوں کو حالیہ حملوں میں کچھ نقصان پہنچا ہے۔ تاہم ادارے کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں کسی قسم کے تابکار اخراج یا ماحولیاتی خطرے کی توقع نہیں ہے۔ IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ویانا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تنصیب کے اندرونی حصے پر اضافی اثرات کی تصدیق نہیں ہوئی۔
علاقائی کشیدگی کے دوران دیگر اہم پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ امریکہ نے ایران میں ایک اسکول کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کی تردید کی ہے، جبکہ ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملے کی اطلاعات کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیوں اور ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے تسلسل نے تنازع کو وسیع تر علاقائی جنگ کی جانب دھکیل دیا ہے۔ توانائی منڈیوں، سفارتی تعلقات اور شہری سکیورٹی پر اس کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر سفارتی کوششیں تیز نہ کی گئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، تاہم فی الحال دونوں فریق اپنی عسکری کارروائیوں کو جاری رکھنے کے اشارے دے رہے ہیں۔



