
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ایرانی حکومت کے سخت گیر رہنماؤں کی گرفتاری یا معلومات فراہم کرنے پر 10 ملین ڈالر تک انعام کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایک نئی “موسٹ وانٹڈ” فہرست جاری کی ہے جس میں ایران کی اعلیٰ قیادت اور پاسدارانِ انقلاب کے اہم عہدیداروں کے نام شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے یہ پوسٹر اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری کیا ہے اور ایرانی عوام سے کہا ہے کہ اگر کسی کے پاس ان رہنماؤں کے بارے میں معلومات ہوں تو وہ خفیہ اور انکرپٹڈ سوشل میڈیا چینلز کے ذریعے رابطہ کریں۔ امریکی اعلان کے مطابق معلومات فراہم کرنے والے افراد کو نہ صرف مالی انعام دیا جا سکتا ہے بلکہ انہیں امریکہ منتقل ہونے کا موقع بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔
امریکی حکام نے اس اقدام کو 2003 کی عراق جنگ کے دوران جاری کیے گئے صدام حسین کے “ڈیک آف کارڈز” سے ملتے جلتے اقدام سے تشبیہ دی ہے۔ اس وقت امریکی خفیہ اداروں نے صدام حسین اور اس کے قریبی ساتھیوں کی تصاویر پر مشتمل کارڈز جاری کیے تھے تاکہ ان کی گرفتاری میں مدد حاصل کی جا سکے۔
اس نئی فہرست میں ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا نام بھی شامل ہے، جو حال ہی میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں زخمی ہو چکے ہیں اور اس وقت تہران کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں، تاہم اس کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اس فہرست میں شامل دیگر اہم شخصیات میں علی لاریجانی بھی شامل ہیں، جو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری ہیں اور ایران کی جنگی حکمت عملی کے اہم معمار سمجھے جاتے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس دنیا بھر میں حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں ملوث رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس فہرست میں شامل بعض افراد کی شناخت ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ کچھ عہدوں کے نام تو دیے گئے ہیں لیکن ان کے ساتھ تصاویر کی جگہ سائے (Silhouettes) دکھائے گئے ہیں کیونکہ ان عہدوں پر تعینات نئے افراد کی شناخت ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس ایران میں زمینی فوج موجود نہیں، اس لیے اگر کسی شخص کے مقام کے بارے میں معلومات ملتی ہیں تو ممکن ہے کہ انہیں فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا جائے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے روس اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات موجود ہیں اور ان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے، جس میں فوجی تعاون بھی شامل ہے۔ تاہم انہوں نے اس تعاون کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ روس ایران کو سیٹلائٹ انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے جبکہ چین ممکنہ طور پر مالی مدد اور فوجی آلات کے پرزے فراہم کر سکتا ہے۔ کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین کا جدید جاسوسی جہاز Liaowang-1 آبنائے ہرمز کے قریب دیکھا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب صرف علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ اس میں بڑی عالمی طاقتوں کی دلچسپی بھی بڑھتی جا رہی ہے، جس کے باعث اس تنازع کے عالمی سیاست، توانائی سپلائی اور سکیورٹی صورتحال پر مزید گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔



