اسرائیلتازہ ترین

اسرائیلی فوج کو شک ہے کہ جنگ ایران کی حکومت کو نہیں گرا سکے گی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے اندر اس بات پر شکوک و شبہات بڑھنے لگے ہیں کہ آیا یہ تنازع واقعی ایرانی حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکے گا یا نہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق موجودہ فضائی حملوں اور فوجی دباؤ کے باوجود تہران کی قیادت پر فوری اثرات محدود دکھائی دے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کا عمومی مؤقف یہ ہے کہ اب تک کی کارروائیوں سے ایران کی حکومتی گرفت کمزور ضرور ہوئی ہے، لیکن اسے مکمل طور پر ختم کرنے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز میں اسرائیل اور امریکا دونوں کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ فوجی دباؤ کے ذریعے ایران میں اندرونی بغاوت یا نظام کی تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس سامنے آ رہے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام خود بھی نجی سطح پر تسلیم کر رہے ہیں کہ حکومت کے خاتمے کی کوئی واضح ضمانت موجود نہیں۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک میں نظام کی تبدیلی صرف بیرونی حملوں سے ممکن نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے اندرونی سیاسی اور فوجی بغاوت بھی ضروری ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایران کے سیکیورٹی اداروں میں بڑے پیمانے پر کسی بغاوت یا ٹوٹ پھوٹ کے شواہد سامنے نہیں آئے، جو اس عمل کو مشکل بنا رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ یہ بھی تھا کہ فضائی حملوں اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے سے ایران کے اندر سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگا، تاہم اب تک ایسا کوئی بڑا عوامی ردعمل یا منظم بغاوت سامنے نہیں آئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے جنگ کے اہداف پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، کیونکہ اگر حکومت کی تبدیلی ممکن نہ ہو تو پھر طویل جنگ کے فوائد محدود ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کی جانب سے مسلسل جوابی حملے اور خطے میں اس کے اتحادیوں کی سرگرمیاں بھی اس تنازع کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ جنگ ایک طویل اسٹریٹجک مقابلے کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں فوری نتائج کی بجائے وقت کے ساتھ دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ تاہم اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ایران جیسے مضبوط ریاستی ڈھانچے کو صرف بیرونی حملوں سے گرانا آسان نہیں ہوگا۔

موجودہ حالات میں یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ جنگ کا نتیجہ فوری طور پر کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی صورت میں سامنے نہیں آئے گا، بلکہ خطہ ایک طویل اور غیر یقینی کشیدگی کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button