ٹرمپ کا ووٹر آئی ڈی لازمی قرار دینے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر لانے کا عندیہ، قانونی بحث تیز

(تازہ حالات رپورٹ )
امریکی صدر نے عندیہ دیا ہے کہ اگر کانگریس سے پیش رفت نہ ہوئی تو وہ صدارتی حکم نامہ (ایگزیکٹو آرڈر) جاری کر کے انتخابات سے قبل ووٹر شناختی کارڈ لازمی قرار دے سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ فوری اقدام کا متقاضی ہے اور اگر قانون سازی رکی رہی تو وہ قانونی اختیارات استعمال کریں گے۔
کانگریس میں کیا ہو رہا ہے؟
امریکی ایوانِ نمائندگان نے حال ہی میں ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت ووٹر رجسٹریشن کے وقت شہریت کا ثبوت درکار ہوگا۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ بل سینیٹ میں سخت مزاحمت کا سامنا کر سکتا ہے، جہاں 100 رکنی ایوان میں کم از کم 60 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
اس قانون کو SAVE Act کے نام سے دوبارہ پیش کیا گیا ہے، جس پر ریپبلکن ارکان کی اکثریت نے حمایت کی، جبکہ صرف ایک ڈیموکریٹ رکن نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔
آئینی اور قانونی سوالات
امریکی آئین کے مطابق انتخابات کے اوقات، مقامات اور طریقۂ کار کا انتظام ریاستوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت براہِ راست ووٹنگ کے طریقہ کار پر کنٹرول بڑھاتی ہے تو یہ آئینی تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں تقریباً 36 امریکی ریاستوں میں کسی نہ کسی شکل میں ووٹر شناختی قوانین نافذ ہیں، تاہم ان کی سختی اور تقاضے مختلف ہیں۔

سیاسی پس منظر
صدر ٹرمپ اور ان کے اتحادی ماضی میں بھی انتخابی دھاندلی کے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں، حالانکہ امریکی حکام اور آزاد تحقیقات کے مطابق ووٹر فراڈ کے واقعات نہایت کم پائے گئے ہیں۔
2026 کے وسط مدتی انتخابات (Midterms) سے قبل یہ معاملہ سیاسی مہم کا اہم موضوع بنتا جا رہا ہے، کیونکہ انہی انتخابات میں کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ ووٹر آئی ڈی کے معاملے کو انتخابی تقاریر میں نمایاں رکھیں۔
عوامی رائے اور تنقید
2025 میں Pew Research Center کے ایک سروے کے مطابق ریپبلکن ووٹرز کی بڑی اکثریت اور ڈیموکریٹس کی بھی قابلِ ذکر تعداد ووٹنگ سے پہلے فوٹو شناخت کی حمایت کرتی ہے۔
دوسری جانب شہری حقوق کے گروپس، جن میں Brennan Center for Justice شامل ہے، خبردار کرتے ہیں کہ سخت شناختی قوانین کم آمدنی والے یا پسماندہ طبقات کے ووٹرز کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں، کیونکہ ہر شہری کے پاس پاسپورٹ یا پیدائش کا سرٹیفکیٹ جیسی دستاویزات دستیاب نہیں ہوتیں۔
آگے کیا؟
اگر صدر ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہیں تو امکان ہے کہ اسے عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا، اور معاملہ بالآخر امریکی سپریم کورٹ تک پہنچ سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بحث نہ صرف ووٹنگ کے قواعد بلکہ وفاق اور ریاستوں کے اختیارات کے درمیان توازن کا بھی امتحان ہوگی۔



