
ایران میں قیادت کا خلا اور نئے حملے
ہفتے کے روز ہونے والے تباہ کن فضائی آپریشن کے بعد، جس میں ایرانی نظام کو تبدیل کرنے کی مہم شروع کی گئی تھی، تہران میں صورتحال انتہائی غیر یقینی ہو چکی ہے۔ 86 سالہ پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی خبروں نے ملک میں سیاسی اور دفاعی خلا پیدا کر دیا ہے۔ اس بڑے جھٹکے کے ابھی چند ہی گھنٹے گزرے تھے کہ اتوار کی صبح اسرائیل نے ایران پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، تہران سمیت کئی شہروں میں تازہ دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جبکہ دبئی اور دوحہ میں بھی غیر معمولی صورتحال کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
فوجی قیادت کو ایک اور بڑا دھچکا
ایران کے لیے حالات اس وقت مزید سنگین ہو گئے جب ایرانی سرکاری ٹی وی نے مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف، عبدالرحیم موسوی کی بھی تازہ حملوں میں ہلاکت کی خبر نشر کی۔ سپریم لیڈر کے بعد فوجی سربراہ کا نشانہ بننا ایرانی دفاعی ڈھانچے کے لیے ایک ایسا کاری وار ہے جس نے تہران کے جوابی حملوں کی صلاحیت پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی "بے مثال طاقت” کے استعمال کی دھمکی
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے ان حملوں کا بدلہ لینے کی کوشش کی تو امریکہ ایسی طاقت کا استعمال کرے گا جو "پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی”۔ وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ یہ آپریشن خطے کو ایرانی خطرات سے مستقل نجات دلانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی کو آہنی ہاتھوں سے کچلا جائے گا۔
علاقائی صورتحال اور مستقبل کا منظرنامہ
اس وقت پورے مشرقِ وسطیٰ میں ہائی الرٹ ہے۔ اسرائیل میں فضائی حملوں کے سائرن بج رہے ہیں جبکہ خلیجی ممالک کے تجارتی مراکز میں شدید بے یقینی کی کیفیت ہے۔ ماہرینِ دفاع کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے جہاں اس کی سیاسی اور فوجی قیادت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا بچا کھچا ڈھانچہ کوئی مزاحمت کرے گا یا خطے کے جغرافیے میں ایک بڑی تبدیلی واقع ہوگی؟



