(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل میں ایران کے ساتھ حالیہ صورتحال اور جنگ بندی کے تناظر میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور موجودہ صورتحال کو ملکی تاریخ کی بڑی سیاسی ناکامی قرار دیا ہے۔
یائر لاپڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کو ان فیصلوں میں شامل ہی نہیں کیا گیا جو اس کی قومی سلامتی سے متعلق تھے، جسے انہوں نے انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا بحران ہے جس کی مثال اسرائیل کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں اور عوام نے بھی غیر معمولی صبر اور حوصلہ دکھایا، لیکن سیاسی قیادت مکمل طور پر ناکام رہی۔ لاپڈ کے مطابق نیتن یاہو نہ صرف سیاسی بلکہ اسٹریٹجک سطح پر بھی اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
اپوزیشن لیڈر نے خبردار کیا کہ موجودہ پالیسیوں کے نتیجے میں ہونے والے سیاسی اور اسٹریٹجک نقصانات کو درست کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں، اور اس کی وجہ انہوں نے قیادت کی مبینہ غفلت، تکبر اور منصوبہ بندی کی کمی کو قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان اسرائیل کی داخلی سیاست میں بڑھتے ہوئے اختلافات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں جنگ اور سفارتی فیصلوں پر شدید بحث جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات نہ صرف حکومت پر دباؤ بڑھاتے ہیں بلکہ عوامی رائے کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں اسرائیل کے اندر سیاسی تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر جنگ بندی اور سیکیورٹی پالیسیوں پر اختلافات اسی طرح جاری رہے۔