ایرانتازہ ترین

ایران پر حملہ بغیر واضح منصوبے کے؟ اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کا حیران کن اعتراف

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر حملے کے وقت حکومت کی تبدیلی کے لیے کوئی واضح اور حقیقت پسندانہ منصوبہ موجود نہیں تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ امید زیادہ تر اندازوں اور خواہشات پر مبنی تھی کہ فضائی حملوں کے بعد ایران میں عوامی بغاوت شروع ہو جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق Israel نے امریکا کے ساتھ مل کر فروری کے آخر میں Iran پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کیے تھے۔ اس کارروائی میں ایرانی فوجی تنصیبات، میزائل پروگرام اور سکیورٹی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

تاہم تقریباً دو ہفتوں کی شدید بمباری اور ایران کے سابق سپریم لیڈر Ali Khamenei کی ہلاکت کے باوجود ایرانی حکومت اب بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے اور ملک کے اندر کسی بڑی عوامی بغاوت یا سکیورٹی اداروں میں بغاوت کے آثار سامنے نہیں آئے۔

اسرائیلی اور مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے آغاز میں کچھ حلقوں کو امید تھی کہ حملوں کے بعد ایران میں سیاسی بحران پیدا ہو گا، مگر اب تک ایسا ہوتا نظر نہیں آیا۔ ایک اسرائیلی انٹیلی جنس ذریعے کے مطابق “یہ زیادہ تر خواہشات پر مبنی سوچ تھی کہ صرف فضائی حملوں سے حکومت گر سکتی ہے۔”

دوسری جانب ایران کے نئے سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei کے بارے میں بھی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیادت میں تبدیلی کے بعد ایران ممکنہ طور پر اپنی دفاعی پالیسی مزید سخت کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسرائیل کے لیے جنگ کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف فوجی نقصان نہیں بلکہ ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل بھی ہو سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے پاس اب بھی سینکڑوں کلوگرام افزودہ یورینیم موجود ہے جو نظریاتی طور پر کئی ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی لانا انتہائی مشکل ہوتا ہے، اور اگر اس کے ساتھ سیاسی حکمت عملی شامل نہ ہو تو تنازع طویل بھی ہو سکتا ہے۔ بعض سابق اسرائیلی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سیاسی راستہ اختیار نہ کیا گیا تو اسرائیل ایک طویل اور پیچیدہ تنازع میں پھنس سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ جنگ نہ صرف خطے کی سکیورٹی بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی اثر ڈال رہی ہے، جس کے باعث عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button