اسرائیلتازہ ترین

آئرن ڈوم یونٹ میں جاسوسی، اسرائیلی فوجی ایران سے رابطے میں نکلا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیل میں جاری جنگی صورتحال کے دوران ایک انتہائی حساس نوعیت کا جاسوسی اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس نے ملکی سیکیورٹی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق آئرن ڈوم جیسے اہم دفاعی نظام سے وابستہ ایک ریزرو فوجی کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

26 سالہ راز کوہن، جو یروشلم کا رہائشی اور آئرن ڈوم یونٹ میں بطور ریزرو اہلکار خدمات انجام دے رہا تھا، پر الزام ہے کہ وہ ایرانی انٹیلیجنس ایجنٹس کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا اور انہیں حساس فوجی معلومات فراہم کرتا رہا۔ اسرائیلی سیکیورٹی اداروں شِن بیٹ اور پولیس یونٹ “لاہاو 433” نے اسے جنگ کے آغاز کے اگلے ہی دن گرفتار کر لیا تھا۔

تحقیقات کے مطابق اس کا رابطہ ایرانی ایجنٹس سے ٹیلیگرام کے ذریعے قائم ہوا، جہاں اسے پہلے نرم انداز میں اور بعد ازاں دباؤ ڈال کر اپنے ساتھ ملایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایجنٹس نے اس پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے اس کی ذاتی معلومات اور خاندان سے متعلق تفصیلات کا بھی حوالہ دیا، جس سے وہ خوفزدہ ہو گیا۔

حکام کے مطابق ملزم نے نہ صرف اپنے فوجی کردار کا اعتراف کیا بلکہ آئرن ڈوم نظام سے متعلق انتہائی حساس معلومات بھی فراہم کیں، جن میں فوجی اڈوں کے درست مقامات، یونٹ کے کمانڈرز کے نام اور دفاعی نظام کی تفصیلات شامل تھیں۔ یہ معلومات اسرائیل کی فضائی دفاعی صلاحیت کے لیے نہایت اہم تصور کی جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان معلومات کے بدلے ملزم کو تقریباً 1500 ڈالر کے مساوی رقم ڈیجیٹل کرنسی میں دی گئی، جبکہ حکام کو شبہ ہے کہ مزید خفیہ ادائیگیاں بھی کی گئی ہوں گی۔

دورانِ تفتیش ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے شدید پچھتاوے کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ “بے وقوفی” کا شکار ہوا۔ اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ پہلے میڈیا میں اس نوعیت کے کیسز دیکھ چکا تھا، مگر اس کے باوجود ایرانی نیٹ ورک کے جال میں پھنس گیا۔

اسرائیلی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے دوران بھی اسرائیلی شہریوں کو بھرتی کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے لیے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کو غیر رسمی طور پر “آپریشن منی” کا نام دیا گیا ہے، جس میں مالی ترغیبات دے کر عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اب اسرائیلی استغاثہ نے یروشلم کی عدالت میں ملزم کے خلاف سنگین فرد جرم عائد کر دی ہے اور عدالت سے درخواست کی ہے کہ مقدمے کے اختتام تک اسے حراست میں رکھا جائے، کیونکہ اس کے اقدامات کو قومی سلامتی کے لیے شدید خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف اسرائیل کے دفاعی نظام میں ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ جدید دور میں ڈیجیٹل جاسوسی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو بھی واضح کرتا ہے، جہاں عام شہری بھی بڑی طاقتوں کے خفیہ نیٹ ورکس کا ہدف بن سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button