اسرائیلتازہ ترین

لبنان میں اسرائیلی حملوں سے تباہی، 634 افراد ہلاک اور 8 لاکھ سے زائد بے گھر

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے باعث انسانی بحران تیزی سے سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائیوں کے بعد اب تک کم از کم 634 افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ اسی دوران 8 لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق حالیہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں 91 بچے اور 47 خواتین بھی شامل ہیں۔ صرف بدھ کی صبح سے جنوبی اور مشرقی لبنان کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ دارالحکومت بیروت اور اس کے جنوبی مضافات پر ہونے والی بمباری میں مزید 36 افراد ہلاک اور کم از کم 60 زخمی ہوئے۔

عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے متعدد قصبوں، جن میں زراریہ، بیت یہون، حارس، یاطر اور حنویہ شامل ہیں، پر دوبارہ شدید فضائی حملے کیے۔ حملوں کے بعد کئی عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی اور ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر اپنے گھر خالی کرنے کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔ ان علاقوں میں حارۃ حریک، غبیری، لیلکی، حدث، برج البراجنہ، تحویطہ الغدیر اور الشیاح شامل ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان علاقوں میں حزب اللہ کے ٹھکانے موجود ہیں۔

لبنانی حکومت کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ یونٹ کے مطابق اب تک 816,700 سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 125,800 افراد کو 590 عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ باقی افراد ملک کے مختلف علاقوں میں رشتہ داروں یا محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار ٹام فلیچر نے خبردار کیا ہے کہ لبنان اور پورا خطہ اس وقت انتہائی خطرناک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق جاری فوجی کشیدگی کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے اثرات اب خطے کے دیگر ممالک تک پھیل رہے ہیں۔ لبنان میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی علاقے میں ایک فوجی مقام کو نشانہ بنایا جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا اور بعد ازاں جنوبی لبنان میں محدود زمینی کارروائی بھی شروع کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لڑائی کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو لبنان کو ایک بڑے انسانی اور معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button