امریکاتازہ ترین

امریکہ کی فوجی نقل و حرکت تیز، جنوبی کوریا سے ٹرانسپورٹ طیارے روانہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکی فوج کے متعدد بڑے ٹرانسپورٹ طیارے حالیہ دنوں میں جنوبی کوریا سے روانہ ہو گئے ہیں۔ فضائی نقل و حرکت کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس کے ڈیٹا کے مطابق یہ پروازیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث امریکی فوجی اثاثوں کی ممکنہ دوبارہ تعیناتی (Redeployment) پر غور کیا جا رہا ہے۔

فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم Flightradar24 کے مطابق امریکی فضائیہ کے بھاری ٹرانسپورٹ طیارے، جن میں C-17 گلوب ماسٹر اور C-5 گلیکسی شامل ہیں، جنوبی کوریا کے شہر پیونگ ٹیک میں واقع اوسان ایئر بیس سے گزشتہ چند دنوں کے دوران پرواز کرتے دیکھے گئے۔ رپورٹس کے مطابق ان میں سے ایک طیارہ ہفتے کے روز بھی وہاں سے روانہ ہوا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان طیاروں میں کیا سامان یا فوجی سازوسامان منتقل کیا جا رہا تھا۔ تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بڑے ٹرانسپورٹ طیارے عموماً فوجی سازوسامان، دفاعی نظام، یا اضافی فوجی عملہ منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

سیئول حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان خطے میں امریکی فوجی اثاثوں کی ممکنہ نئی تعیناتی پر بات چیت جاری ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی تناؤ کے پیش نظر واشنگٹن اپنی عالمی فوجی حکمت عملی میں تیزی سے تبدیلیاں کر رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کے پاس دنیا بھر میں متعدد فوجی اڈے اور وسائل موجود ہیں، جنہیں ضرورت کے مطابق ایک خطے سے دوسرے خطے میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی تو امکان ہے کہ امریکہ اپنی فضائی اور بحری قوت کا بڑا حصہ اس خطے میں منتقل کر دے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا سے امریکی فوجی طیاروں کی یہ سرگرمی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت کا حصہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات اب مختلف خطوں کی فوجی حکمت عملیوں پر بھی پڑنے لگے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button