
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل کے جدید فضائی دفاعی نظام “ڈیوڈز سلنگ” (David’s Sling) کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ حالیہ ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کو روکنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں جنوبی اسرائیل کے شہروں ڈیمونا اور عراد میں بڑے پیمانے پر تباہی اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حملے ہفتہ کی رات کیے گئے، جن میں دونوں شہروں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ ڈیمونا میں کم از کم 39 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک 12 سالہ بچہ بھی شامل ہے جس کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ دوسری جانب عراد میں 84 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 10 کی حالت نازک ہے۔
میزائل دفاعی نظام کیوں ناکام ہوا؟
اسرائیلی فوج (IDF) کا کہنا ہے کہ ان دونوں حملوں میں استعمال ہونے والے میزائل پہلے بھی کامیابی سے روکے جا چکے تھے، اور حالیہ واقعات میں کسی ٹیکنیکل خرابی، انسانی غلطی یا آپریشنل ناکامی کے شواہد نہیں ملے۔ فوجی حکام کے مطابق دونوں انٹرسیپشن کی ناکامیوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔
تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگی حالات میں بیلسٹک میزائلوں کی رفتار، تعداد اور ٹیکنالوجی دفاعی نظاموں کے لیے بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے کبھی کبھار جدید سسٹمز بھی ناکام ہو سکتے ہیں۔
حملوں کی نوعیت اور تباہی کی تفصیلات
ڈیمونا میں گرنے والا میزائل سینکڑوں کلوگرام دھماکہ خیز مواد سے لیس تھا اور اس نے ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا۔ خوش قسمتی سے بارش کے باعث زمین نرم تھی، جس سے دھماکے کی شدت کسی حد تک کم ہو گئی۔ عمارتوں میں موجود پناہ گاہوں (Shelters) نے بھی جانی نقصان کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، اور زیادہ تر افراد محفوظ رہے۔

دوسری جانب عراد میں بھی اسی نوعیت کا میزائل بلند عمارتوں کے درمیان گرا۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر زخمی وہ لوگ تھے جو حملے کے وقت محفوظ پناہ گاہوں میں موجود نہیں تھے۔
دفاعی نظام “ڈیوڈز سلنگ” کیا ہے؟
“ڈیوڈز سلنگ” اسرائیل کا درمیانے فاصلے کے میزائلوں کو روکنے والا دفاعی نظام ہے، جو آئرن ڈوم (Iron Dome) اور ایرو (Arrow) سسٹمز کے درمیان ایک اہم کڑی سمجھا جاتا ہے۔ اسے خاص طور پر بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے خلاف تیار کیا گیا ہے۔
یہ حالیہ واقعہ اس نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ایران و اسرائیل کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ محاذ آرائی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
بڑھتی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات
ماہرین کے مطابق یہ حملے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا حصہ ہیں، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جدید دفاعی نظام بھی مکمل تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہیں، تو شہری آبادی کے لیے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں، جس کے پیش نظر حفاظتی اقدامات اور ہنگامی تیاریوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
ہم نکات:
- اسرائیلی دفاعی نظام “ڈیوڈز سلنگ” ایرانی میزائل روکنے میں ناکام
- ڈیمونا اور عراد میں 120 سے زائد افراد زخمی
- فوج کا دعویٰ: نہ کوئی تکنیکی خرابی، نہ انسانی غلطی
- ماہرین کے مطابق جدید میزائل ٹیکنالوجی دفاعی نظاموں کے لیے چیلنج



