تازہ ترینفلسطین

اسرائیل کا نیا اقدام: دو فلسطینیوں کی شہریت منسوخ، غزہ منتقل کرنے کا فیصلہ

اسرائیلی حکومت نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے دو فلسطینی نژاد شہریوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کر دی ہے اور انہیں غزہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری بیان میں اس اقدام کی تصدیق کی۔

نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے دو ایسے افراد کی شہریت ختم کرنے کے احکامات پر دستخط کیے جن پر اسرائیلی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نئے قانون کے تحت کیا گیا ہے، جس کے ذریعے دہشت گردی یا ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کی شہریت یا رہائشی حیثیت ختم کی جا سکتی ہے۔

یہ قانون 2023 میں اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے منظور ہوا تھا۔ اس کے تحت اگر کسی شخص کو دہشت گردی یا غداری کے جرم میں سزا ہو اور وہ فلسطینی اتھارٹی سے مالی معاونت حاصل کر رہا ہو تو وزارتِ داخلہ اس کی شہریت واپس لے سکتی ہے اور اسے فلسطینی علاقوں یا غزہ بھیجا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق جن دو افراد کی شہریت منسوخ کی گئی ہے ان میں ایک مشرقی یروشلم کے علاقے کفر عقب سے تعلق رکھنے والا شخص ہے جسے ماضی میں مسلح حملوں کے الزام میں طویل قید کی سزا سنائی گئی تھی اور حال ہی میں رہا ہوا تھا۔ دوسرا فرد جبل المكبر کا رہائشی بتایا جاتا ہے جسے کم عمری میں چاقو حملے کے الزام میں سزا ہوئی تھی اور اس کی رہائی کے بعد اسے منتقل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

تاحال ان افراد یا ان کے وکلا کی جانب سے کوئی عوامی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے اس قانون پر پہلے بھی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شہریت کی منسوخی اور جبری منتقلی بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہو سکتی ہے۔

اسرائیل کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ فلسطینی نژاد شہریوں پر مشتمل ہے، جو طویل عرصے سے مساوی حقوق اور امتیازی سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قانون قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے اور غزہ کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس فیصلے کے قانونی اور سیاسی اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button