تازہ ترینعالمی خبریں

جیفری ایپسٹین کی اسرائیلی فوج اور آبادکاری سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت کا انکشاف

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی نئی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ بدنام زمانہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین نے اسرائیلی فوج کی معاونت کے لیے چندے دیے اور فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری سے منسلک اداروں کو بھی مالی مدد فراہم کی۔ یہ انکشاف ترک خبر رساں ادارے اناطولیہ کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایپسٹین کے 2005 کے ٹیکس ریکارڈز کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے 3 مارچ 2005 کو اسرائیلی فوج کے حامی ادارے “فرینڈز آف دی اسرائیلی ڈیفنس فورسز” کو 25 ہزار ڈالر عطیہ کیے۔ اس کے علاوہ اس نے 15 ہزار ڈالر “جیوئش نیشنل فنڈ” کو دیے، جو مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرتا ہے، جبکہ 5 ہزار ڈالر نیشنل کونسل آف جیوئش ویمن کو بھی دیے گئے۔

دستاویزات میں شامل ای میلز سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ 2012 میں ایک پیغام میں ایپسٹین نے متنازع سیاسی مؤقف اختیار کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ فلسطین تاریخی طور پر ایک آزاد ریاست کے طور پر کبھی موجود نہیں رہا۔ ماہرین کے مطابق ایسے بیانات اس کے سیاسی اور نظریاتی رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں۔

نئی فائلوں میں ایپسٹین کی تدفین سے متعلق تفصیلات بھی شامل ہیں۔ ایف بی آئی کی ایک دستاویز کے مطابق جنازے کے دوران صحافیوں کو ایک ایسی گاڑی کے پیچھے جانے کی ہدایت دی گئی جس میں خالی ڈبے موجود تھے، جبکہ ایپسٹین کی لاش بعد میں ایک دوسری گاڑی کے ذریعے منتقل کی گئی۔ اس واقعے نے اس کی موت کے گرد موجود شکوک و شبہات کو مزید ہوا دی ہے۔

یاد رہے کہ 31 جنوری کو امریکی نائب اٹارنی جنرل نے اعلان کیا تھا کہ ایپسٹین سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں 30 لاکھ سے زائد نئی فائلیں عوام کے لیے جاری کی جا رہی ہیں۔ ان فائلوں میں متعدد عالمی سطح کی معروف شخصیات کے نام بھی شامل ہیں، جن کا ذکر پہلے مختلف رپورٹس میں آ چکا ہے۔

جیفری ایپسٹین کو کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا مرکزی کردار قرار دیا جاتا تھا۔ وہ 2019 میں نیویارک کی ایک جیل میں مقدمے کے دوران ہلاک پایا گیا، جبکہ اس کی موت آج بھی سوالات کا باعث بنی ہوئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تازہ دستاویزات نہ صرف ایپسٹین کے مالی اور سیاسی روابط کو بے نقاب کرتی ہیں بلکہ
اسرائیل اور فلسطین سے متعلق عالمی سطح پر جاری مباحث میں بھی نئی بحث کو جنم دے سکتی ہیں۔

Israel,Middle East,News

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button