
(تازہ حالات رپورٹ )دی ٹائمز آف اسرائیل
: اسرائیلی حکومت اور مغربی کنارے کی مقامی کونسل کے درمیان طے پانے والے ایک نئے ترقیاتی معاہدے کے تحت یروشلم کے قریب ایک نئی یہودی بستی کے قیام کا منصوبہ سامنے آیا ہے، جسے ناقدین 1967 کے بعد شہر کی عملی توسیع قرار دے رہے ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ منصوبہ بظاہر بستی ’آدم‘ کی مغربی سمت توسیع کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت تقریباً 2,780 رہائشی یونٹس پر مشتمل ایک نیا ’’محلہ‘‘ تعمیر کیا جائے گا۔ تاہم مجوزہ علاقہ مرکزی بستی سے سڑک اور سیکیورٹی باڑ کے ذریعے جدا ہے اور جغرافیائی طور پر مشرقی یروشلم کے علاقے ’نیوہ یعقوب‘ سے زیادہ قریب واقع ہے۔
500 دونم اراضی پر تعمیرات
یہ نئی تعمیرات فلسطینی قصبوں حزما اور الرام کے درمیان تقریباً 500 دونم (تقریباً 125 ایکڑ) اراضی پر کی جائیں گی۔ منصوبے کے لیے اسرائیلی حکومت تقریباً 12 کروڑ شیکل (تقریباً 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر) خرچ کرے گی، جس میں بنیادی ڈھانچہ، عوامی مقامات اور کمیونٹی سہولیات شامل ہوں گی۔

اگرچہ منصوبے کو ابھی حتمی منظوری درکار ہے اور مکمل منظوری میں دو سال تک لگ سکتے ہیں، تاہم ہاؤسنگ وزارت کے مطابق پہلے مرحلے میں 500 رہائشی یونٹس کی مارکیٹنگ شروع کر دی گئی ہے۔
’پس پردہ الحاق‘ کا الزام
اسرائیلی امن پسند تنظیم ’پیس ناؤ‘ نے اس اقدام کو ’’پس پردہ الحاق‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ 1967 کے بعد پہلی بار یروشلم کی حدود کو عملی طور پر مغربی کنارے تک بڑھانے کی کوشش ہے۔ تنظیم کے مطابق اگرچہ اسے بستی آدم کا حصہ ظاہر کیا جا رہا ہے، لیکن عملی طور پر یہ علاقہ یروشلم کے شہری ڈھانچے سے منسلک ہو جائے گا اور ممکنہ طور پر شہر سے بلدیاتی خدمات بھی حاصل کرے گا۔
بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی قانون سازوں نے بھی منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور علاقائی استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
علاقائی کونسل کا خیرمقدم

دوسری جانب میتہ بنیامین ریجنل کونسل کے سربراہ اسرائیل گانز نے منصوبے کو ’’آبادکاری وژن کی تکمیل‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ہزاروں نئے مکانات کی تعمیر کا راستہ ہموار کرے گا بلکہ مقامی رہائشیوں کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری لائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزید ترقیاتی منصوبے بھی زیرِ غور ہیں۔
پس منظر اور ممکنہ اثرات
1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر کنٹرول حاصل کیا تھا اور اس کے بعد یروشلم کی بلدیاتی حدود میں توسیع کی گئی تھی۔ بین الاقوامی برادری مشرقی یروشلم میں قائم بیشتر بستیوں کو متنازع قرار دیتی ہے۔



