
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سامنے آنے والی نئی سیٹلائٹ تصاویر سے اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ کے جدید میزائل دفاعی نظام کے ایک اہم ریڈار کو نقصان پہنچا ہو سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ریڈار امریکی فوج کے تھاد (THAAD) میزائل دفاعی نظام کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
یورپی دفاعی کمپنی ایئربس ڈیفنس اینڈ اسپیس کی جانب سے جاری سیٹلائٹ تصاویر میں ایک ایسے مقام پر شدید نقصان کے آثار دکھائی دیتے ہیں جہاں امریکی AN/TPY-2 فارورڈ بیسڈ ایکس بینڈ ریڈار نصب تھا۔ ابتدائی تجزیوں کے مطابق اس ریڈار کو ممکنہ طور پر ایرانی ڈرون یا میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
ماہرین کے مطابق AN/TPY-2 ریڈار جدید میزائل دفاعی نظام کا انتہائی اہم حصہ ہوتا ہے۔ یہ طاقتور ایکس بینڈ ریڈار دور سے آنے والے بیلسٹک میزائلوں کا پتہ لگانے، ان کی رفتار اور سمت کا تجزیہ کرنے اور دفاعی میزائلوں کو ہدف تک رہنمائی فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
دفاعی صنعت کے اندازوں کے مطابق اس ریڈار سسٹم کی قیمت تقریباً 500 ملین سے 1 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دنیا کے مہنگے اور جدید ترین فوجی ریڈار سسٹمز میں شمار کیا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ کے پاس اس وقت ایسے ریڈار سسٹمز کی تعداد محدود ہے۔ امریکی میزائل ڈیفنس ایجنسی کو 2025 میں اس سسٹم کا تیرہواں یونٹ فراہم کیا گیا تھا، جسے دفاعی کمپنی RTX کی ذیلی کمپنی ریتھیون نے تیار کیا تھا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رپورٹ درست ثابت ہوتی ہے تو یہ میزائل دفاعی نظام کے لیے ایک اہم دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ تھاد سسٹم کا انحصار اسی ریڈار پر ہوتا ہے جو دور سے آنے والے خطرات کی بروقت نشاندہی کرتا ہے۔
تاحال امریکی حکام نے اس ممکنہ نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر میں دکھائی دینے والے نقصانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ کافی شدید نوعیت کا ہو سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور جدید ہتھیاروں کے استعمال نے خطے میں دفاعی نظاموں کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

امریکی میزائل ڈیفنس ایجنسی کو اس سسٹم کا تازہ ترین یونٹ 2025 میں فراہم کیا گیا تھا۔ یہ ریڈار امریکی دفاعی کمپنی RTX (Raytheon) نے تیار کیا تھا جو دنیا کی بڑی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی اس ریڈار کو نقصان پہنچا ہے تو یہ نہ صرف ایک مہنگے دفاعی نظام کے لیے نقصان ہوگا بلکہ اس سے علاقے میں میزائل دفاعی صلاحیت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ تھاد نظام کے مؤثر کام کے لیے ریڈار کی بروقت معلومات انتہائی اہم ہوتی ہیں۔
دوسری جانب ابھی تک امریکی حکام نے اس مبینہ نقصان کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی۔ دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر کا مزید تجزیہ اور سرکاری بیانات سامنے آنے کے بعد ہی اس واقعے کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی نے نہ صرف روایتی ہتھیاروں بلکہ جدید دفاعی نظاموں کو بھی براہ راست خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اگر ایسے حملے جاری رہے تو خطے میں دفاعی نظاموں کی تعیناتی اور سکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جا سکتے ہیں۔



