امریکاتازہ ترین

جنوبی کوریا سے ہتھیاروں کی واپسی! کیا امریکہ ایران کے سامنے بے بس ہو گیا؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں امریکہ جنوبی کوریا میں تعینات اپنے بعض اہم فضائی دفاعی اور عسکری اثاثوں کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ کوریائی اخبار “چوسن ڈیلی” کی رپورٹ کے مطابق اس ممکنہ منصوبے میں پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں، ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) سسٹم اور نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے MQ-9 ریپر ڈرون شامل ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے کنسان ایئر بیس پر مستقل طور پر تعینات امریکی فضائیہ کے اثاثوں میں موجود پیٹریاٹ میزائل سسٹمز اور جدید دفاعی پلیٹ فارمز کو مشرقِ وسطیٰ میں درپیش بڑھتے میزائل و ڈرون خطرات کے پیشِ نظر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی گیونگ سانگ صوبے کے سیونگجو میں نصب تھاڈ بیٹری اور اس کے انٹرسیپٹر میزائل بھی ممکنہ طور پر اس فہرست میں شامل ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ منتقلی عمل میں آتی ہے تو یہ امریکہ کی عالمی عسکری ترجیحات میں اہم تبدیلی سمجھی جائے گی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے امریکی اتحادیوں کو میزائل دفاعی نظام کی فوری ضرورت میں ڈال دیا ہے، جبکہ دوسری جانب جنوبی کوریا کو شمالی کوریا کے خطرات کا بھی سامنا ہے۔ اس لیے کسی بھی تعیناتی کی تبدیلی کو خطے میں طاقت کے توازن کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

واشنگٹن کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ بیک وقت دو مختلف خطوں میں دفاعی ضروریات کو متوازن رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر جنوبی کوریا سے دفاعی نظام کم کیا جاتا ہے تو اس کے لیے متبادل انتظامات یا اضافی یقین دہانیاں بھی ضروری ہوں گی۔

حالیہ مہینوں میں ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکہ نے خلیجی خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے نظام بیلسٹک میزائلوں کے خلاف اہم دفاع فراہم کرتے ہیں، اور ان کی ممکنہ منتقلی اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں طویل المدتی سکیورٹی چیلنجز کے لیے تیاری کر رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button