
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور جنگ کے منڈلاتے بادلوں کے درمیان، ایران نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اب تک کی سب سے سنگین اور دوٹوک وارننگ جاری کر دی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آفیشل ویب سائٹ سے جاری ہونے والے ایک حالیہ پالیسی بیان نے عالمی دفاعی اور سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
نئی حکمت عملی: ‘سرخ لکیریں بدل چکی ہیں’
سپریم لیڈر کی ویب سائٹ پر "اگر جارحیت ہوئی تو ایران کی حکمت عملی کیا ہوگی؟” کے عنوان سے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی، تو مستقبل کا کوئی بھی تصادم ماضی کی جھڑپوں یا محدود کارروائیوں جیسا ہرگز نہیں ہوگا۔ تہران نے اعلانیہ طور پر واضح کر دیا ہے کہ ماضی میں کھینچی گئی تمام ‘ریڈ لائنز’ (سرخ لکیریں) اب بنیادی طور پر تبدیل ہو چکی ہیں، اور ایران کا ردعمل اب کسی خاص دائرے تک محدود نہیں رہے گا۔
جنگ کی خواہش نہیں، مگر پسپائی بھی نہیں
اس انتہائی اہم اور اسٹریٹجک بیان میں ایران کے اس روایتی مؤقف کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ خطے میں کسی قسم کی جنگ کا خواہاں نہیں ہے۔ تاہم، اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر ایران پر جارحیت مسلط کی گئی، تو وہ اس کا مقابلہ کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا بلکہ پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آئے گا۔

امریکہ کے لیے براہ راست اور سب سے بڑا خطرہ
رپورٹ کا سب سے حساس حصہ وہ ہے جس میں براہ راست امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ آفیشل بیان میں انتہائی سخت اور دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے:
"اگر جارحیت ایران کی سرزمین یا اس کے بیٹوں کی جانوں تک پہنچی، تو پھر دنیا میں کہیں بھی امریکی مفادات اور ان کی جانیں محفوظ نہیں رہیں گی۔”
موجودہ حالات کے تناظر میں تجزیہ
دفاعی ماہرین کے مطابق، اس بیان کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ خلیجِ فارس، بحیرہ احمر اور مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے، سفارت خانے، اور طیارہ بردار بحری بیڑے اب براہ راست ایرانی میزائلوں، ڈرونز اور اس کے اتحادیوں (پراکسیز) کے نشانے پر ہوں گے۔ یہ سخت وارننگ ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے حال ہی میں خطے میں اپنی عسکری موجودگی میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے، جس میں جدید ترین جنگی طیاروں اور میزائل ڈیفنس سسٹمز کی تعیناتی شامل ہے۔



