
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ)
روس نے کہا ہے کہ ایران نے اب تک ماسکو سے ہتھیاروں یا فوجی امداد کی کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو میں واضح کیا کہ ایران کی جانب سے روس کو اسلحہ یا دیگر فوجی مدد کے لیے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ روس کی اس معاملے پر پالیسی پہلے ہی واضح ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
روس نے حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
روس اور ایران کے تعلقات
گزشتہ چند برسوں میں روس اور ایران کے درمیان تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان 20 سالہ اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ بھی طے پایا تھا، جس کا مقصد اقتصادی، سیاسی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
روس اس وقت ایران کے جنوبی شہر بوشہر میں واقع جوہری بجلی گھر میں مزید دو نئے نیوکلیئر یونٹس کی تعمیر میں بھی مدد کر رہا ہے۔ یہ ایران کا واحد فعال جوہری پاور پلانٹ ہے۔

دوسری جانب مغربی ممالک کا دعویٰ ہے کہ ایران نے روس کو شاہد ڈرونز فراہم کیے ہیں جو یوکرین کی جنگ میں استعمال کیے گئے۔ تاہم ایران اس الزام کی مختلف مواقع پر تردید کرتا رہا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سیاست، توانائی کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روس اس وقت سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور آنے والے دنوں میں خطے کی سیاسی سمت مزید واضح ہو سکتی ہے۔




asslamu alaikum