
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
کویت نے سیکیورٹی کے میدان میں ایک بڑی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک اور مبینہ دہشتگرد نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جو ملک کی اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق یہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران سامنے آنے والا تیسرا ایسا گروہ ہے، جس سے ملک میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔
کویتی وزارت داخلہ کے مطابق گرفتار کیے گئے گروہ میں 20 افراد شامل ہیں، جن میں سے 6 کو ملک کے اندر سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں 5 کویتی شہری جبکہ ایک غیر ملکی شہری شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ باقی 14 افراد ملک سے باہر موجود ہیں، جن کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔
سرکاری بیان کے مطابق زیر حراست افراد نے دوران تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ رابطے میں تھے اور انہوں نے کویت کی اعلیٰ شخصیات اور ریاستی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس کے علاوہ وہ نئے افراد کو بھرتی کرنے اور نیٹ ورک کو وسعت دینے میں بھی سرگرم تھے۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ اس نیٹ ورک کے ارکان نے بیرون ملک عسکری تربیت حاصل کی تھی، جہاں انہیں جدید جنگی مہارتیں سکھائی گئیں۔ حکام کے مطابق گروہ کے قبضے سے اسلحہ اور نگرانی کا سامان بھی برآمد کیا گیا ہے، جو ان کی سرگرمیوں کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق بیرون ملک موجود ملزمان میں مختلف قومیتوں کے افراد شامل ہیں، جن میں کویتی، غیر ملکی، ایرانی اور لبنانی شہری شامل بتائے گئے ہیں۔ اس پہلو نے سیکیورٹی اداروں کو مزید الرٹ کر دیا ہے، کیونکہ اسے ممکنہ طور پر ایک بڑے نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کویت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی دو دیگر مبینہ سیلز کو بے نقاب کیا گیا تھا، جن میں مجموعی طور پر درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی حالات کے باعث خلیجی ممالک کو اندرونی سیکیورٹی کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے نیٹ ورکس کا مقصد نہ صرف بدامنی پھیلانا ہوتا ہے بلکہ ریاستی استحکام کو بھی نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔
حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک کے خلاف کسی بھی سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کے تمام پہلوؤں کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔



