ایرانتازہ ترین

ایران جنگ میں لیزر ہتھیاروں کا استعمال، امریکی آپریشن میں نئی ٹیکنالوجی سامنے آگئی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ)
ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں جدید لیزر ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آپریشن “ایپک فیوری” کے دوران جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ نگرانی، سائبر حملوں اور لیزر دفاعی نظاموں کی مدد سے ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے ساحلی علاقوں میں تعینات امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز پر ہائی انرجی لیزر سسٹم (HELIOS) نصب ہے، جو دشمن کے ڈرونز اور میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بعض ویڈیوز میں ایسے نظام کی موجودگی کے اشارے بھی ملتے ہیں، تاہم امریکی بحریہ نے باضابطہ طور پر اس کے عملی استعمال کی تصدیق نہیں کی۔

اسی طرح اسرائیل کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ اس نے “آئرن بیم” نامی جدید لیزر دفاعی نظام استعمال کیا ہے، جو راکٹوں اور ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی، لیکن دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی جنگوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ابتدائی مرحلے میں بڑے حملے

امریکی حکام کے مطابق جنگ کے ابتدائی 72 گھنٹوں کے دوران امریکی افواج نے ایران میں تقریباً 1700 اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ ایران کے دو سو سے زائد بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ سینکڑوں میزائل بھی تباہ کیے گئے تاکہ انہیں استعمال ہونے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں صرف روایتی فضائی حملے ہی نہیں بلکہ خلائی نگرانی، سائبر حملے اور الیکٹرانک جنگ بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ امریکی اسپیس فورس اور سائبر کمانڈ ایران کے ریڈار اور مواصلاتی نظام کو متاثر کرنے کے لیے جدید سائبر ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔

خلائی نگرانی اور سائبر جنگ

دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی سیٹلائٹس اور ریڈار نیٹ ورک میزائل لانچ ہونے سے پہلے ہی اس کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد سائبر کمانڈ دشمن کے نظام میں مداخلت کر کے ریڈار یا کنٹرول سسٹم کو غیر فعال کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بھی کہا کہ کارروائی کے آغاز سے پہلے ایران کے مواصلاتی اور سینسر نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا تاکہ دشمن کے دفاعی نظام کو الجھن اور خلل کا شکار کیا جا سکے۔

جدید ٹیکنالوجی کی جنگ

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری یہ جنگ روایتی فوجی لڑائی سے زیادہ ٹیکنالوجی پر مبنی جنگ بنتی جا رہی ہے۔ جدید سیٹلائٹس، مصنوعی ذہانت، سائبر حملے اور لیزر ہتھیار مستقبل کی جنگی حکمت عملی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کی ٹیکنالوجی کی بدولت امریکہ نے زمینی افواج تعینات کیے بغیر بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے، جس سے جنگ کا انداز اور رفتار دونوں بدل رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button