ایرانتازہ ترین

ایران کا بڑا دعویٰ: امریکی اور اتحادی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں ایرانی حملوں نے امریکی اور اتحادی دفاعی نظام کو جزوی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی ایک تازہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر اور تصدیق شدہ ویڈیوز سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کم از کم 10 ایسے ریڈار مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے زیرِ استعمال تھے۔ ان حملوں میں مبینہ طور پر ڈرونز اور میزائل استعمال کیے گئے۔

ماہرین کے مطابق ریڈار سسٹمز کسی بھی جدید دفاعی نظام کا بنیادی حصہ ہوتے ہیں، جو دشمن کے میزائل، ڈرون اور طیاروں کی بروقت نشاندہی کرتے ہیں۔ ایسے میں ان تنصیبات کو نشانہ بنانا دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنے کی ایک اہم حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ریڈار سسٹمز متاثر ہوں تو میزائل دفاعی نظام کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ حملے کا بروقت پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید جنگوں میں سب سے پہلے نگرانی اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ مخالف فریق کی ردعمل کی صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں اپنے ڈرون اور میزائل پروگرام میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کے باعث وہ طویل فاصلے تک درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم لاگت ڈرونز کا استعمال اسے ایک مؤثر اور نسبتاً سستا حربہ فراہم کرتا ہے۔

اگرچہ ان حملوں کی مکمل تفصیلات اور نقصانات کی سطح آزاد ذرائع سے مکمل طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم دستیاب شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں جنگ اب صرف روایتی حملوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس پر مبنی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے مستقبل میں مزید بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر اگر تنازع طویل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف فوجی تنصیبات بلکہ توانائی اور مواصلاتی انفراسٹرکچر بھی خطرے میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات وسیع پیمانے پر پڑ سکتے ہیں۔

خطے میں جاری اس کشیدگی کے دوران یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی دفاعی کمزوریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بڑے تصادم کو روکا جا سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button